السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من بكى في صلاته فلم يظهر من صوته ما يكون كلاما له هجاء باب: اس شخص کا بیان جو اپنی نماز میں رویا لیکن اس کی آواز سے کوئی ایسی بات ظاہر نہ ہوئی جس کے حروف تہجی بنتے ہوں
حدیث نمبر: 3358
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا حَجَّاجٌ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقْرَأُ فِي الْعَتَمَةِ بِسُورَةِ يُوسُفَ وَأَنَا فِي مُؤَخَّرِ الصُّفُوفِ حَتَّى إِذَا جَاءَ ذِكْرُ يُوسُفَ سَمِعْتُ نَشِيجَهُ فِي مُؤَخَّرِ الصَّفِّ ".حافظ ثناء اللہ
علقمہ بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عشاء کی نماز میں سورہ یوسف پڑھ رہے تھے اور میں آخری صفوں میں کھڑا تھا۔ جب وہ یوسف علیہ السلام کے ذکر پر پہنچے تو میں نے آخری صف میں آپ کے سینے سے رونے کے دوران نکلنے والی آواز سنی۔