السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من بكى في صلاته فلم يظهر من صوته ما يكون كلاما له هجاء باب: اس شخص کا بیان جو اپنی نماز میں رویا لیکن اس کی آواز سے کوئی ایسی بات ظاہر نہ ہوئی جس کے حروف تہجی بنتے ہوں
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ قَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ، فَقَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " فَعَاوَدَتْهُ مِثْلَ مَقَالَتِهَا فَقَالَ: " أَنْتُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيِّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ لَا يَمْلِكُ دَمْعَهُ.(ا) حمزہ بن عبداللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ ﷺ کی بیماری میں شدت آ گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل والے ہیں، جب آپ ﷺ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو رونے کے سبب قرات نہ سنا سکیں گے۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”ابوبکر سے کہیے وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ انہوں نے پھر اسی طرح بات کی جیسے پہلے کہی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم یوسف علیہ السلام کی عورتوں جیسی ہو۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“
(ب) صحیح مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل والے ہیں، جب قرآن پڑھتے ہیں تو اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں پا سکتے۔