السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما يجوز من قراءة القرآن والذكر في الصلاة يريد به جوابا أو تنبيها باب: نماز میں قرآن کی قراءت اور ذکر کا جواز جب اس سے مراد کسی کو جواب دینا یا متنبہ کرنا ہو
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ قَالَ: دَخَلْنَا مَعَ عَبْدِ اللهِ فِي الْمَسْجِدِ وَالْإِمَامُ رَاكِعٌ فَرَكَعَ عَبْدُ اللهِ فَرَكَعْنَا مَعَهُ وَجَعَلَ يَمْشِي إِلَى الصَّفِّ وَنَحْنُ رُكُوعٌ فَمَرَّ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ: كَانَ يُقَالُ: مِنَ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُسَلِّمَ الرَّجُلُ عَلَى الرَّجُلِ بِالْمَعْرِفَةِ وَأَنْ تُتَّخَذَ الْمَسَاجِدُ طُرُقًا وَأَنْ يَتَّجِرَ الرَّجُلُ وَامْرَأَتُهُ وَأَنْ تَغْلُوَ الْخَيْلُ وَالنِّسَاءُ ثُمَّ يَرْخُصْنَ ثُمَّ لَا تَغْلُوَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَحَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ مُخْتَصَرٌ وَرُوِيَ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِنَحْوِهِ وَرَفَعَ آخِرَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ.(ا) خارجہ بن صلت بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد میں داخل ہوئے اور امام صاحب رکوع میں تھے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے (صف سے پیچھے ہی) رکوع کیا۔ ہم نے بھی ان کے ساتھ رکوع کیا اور آپ چلتے ہوئے صف میں شامل ہو گئے اور ہم رکوع میں ہی رہے۔ ایک آدمی گزرا، اس نے انہیں سلام کہا تو انہوں نے کہا: «صَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُولُهُ» ”اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔“ پھر جب انہوں نے نماز مکمل کی تو فرمایا: ”کہا جاتا ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں یہ بھی ہے کہ آدمی کسی آدمی کو ذاتی معرفت کی بنا پر ہی سلام کرے گا اور مسجدوں کو راستہ بنا لیا جائے گا اور مرد اور اس کی بیوی دونوں اجرت لیں گے گھوڑے اور عورتیں۔“
(ب) طارق بن شہاب سے بواسطہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اسی جیسی منقول ہے اور انہوں نے اس کے آخری حصے کو نبی کریم ﷺ تک پہنچایا ہے۔ اس میں کچھ اضافہ اور کمی بھی ہے۔