حدیث نمبر: 3321
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْأَخِيرَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ: " اللهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ ⦗٣٤٧⦘ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ اللهُمُ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز کی دوسری رکعت میں جب رکوع سے سر اٹھاتے تو پڑھتے: «اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ» ”اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہم اور مکہ کے کمزوروں کو نجات دے۔ اے اللہ! مضر قبیلہ کے کفار پر اپنی پکڑ سخت کر اور ان پر یہ عذابِ قحط یوسف (علیہ السلام) کی طرح طویل مدت تک مسلط رکھ۔“
ہمیں ابوالحسین علی بن محمد بن بشران العدل نے بغداد میں خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں اسماعیل بن محمد الصفار نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن عبدالملک الدقیقی نے بتایا، انہوں نے کہا: ہمیں یزید بن ہارون نے بتایا، انہوں نے کہا: ہمیں سلیمان نے ابومجلز سے خبر دی، انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فجر میں ایک ماہ تک قنوت فرمائی، آپ رعل اور ذکوان (قبیلوں) کے خلاف بددعا کرتے تھے اور فرمایا: ”«عُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ» عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔“ اسے دونوں (امام بخاری و مسلم) نے سلیمان تیمی کی حدیث سے صحیح میں نقل کیا ہے۔ [صحیح۔ اسے مسلم نے 307 میں نکالا ہے]

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3321
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 961»