السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: قراءة من قرأ وأرجلكم نصبا وأن الأمر رجع إلى الغسل وأن من قرأها خفضا فإنما هو للمجاورة باب: اس شخص کی قراءت کا بیان جس نے ”وأرجلكم“ کو نصب کے ساتھ پڑھا اور یہ کہ حکم دھونے کی طرف لوٹتا ہے، اور جس نے اسے جر (زیر) کے ساتھ پڑھا تو وہ محض مجاورت (پڑوس) کی وجہ سے ہے
حدیث نمبر: 332
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " رَجَعَ الْقُرْآنُ إِلَى الْغَسْلِ "، وَقَرَأَ {وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ} [المائدة: ٦] بِنَصْبِهَا ".حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ قرآن کا حکم دھونے کی طرف لوٹتا ہے (یعنی پاؤں کو دھونے کا حکم ہے) اور آپ نے ﴿وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ﴾ [سورة المائدة: 6] نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔