السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: كراهية السدل في الصلاة وتغطية الفم باب: نماز میں سدل (کپڑا لٹکانے) اور منہ ڈھانپنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 3314
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ لَمْ يَنْظُرِ اللهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَيْ رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَحَدَ شِقَّيْ إِزَارِي يَسْتَرْخِي إِلَّا أَنْ أَتَعَاهَدَ ذَلِكَ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَسْتَ أَوْ إِنَّكَ لَسْتَ مِمَّنْ يَصْنَعُهُ خُيَلَاءَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ.حافظ ثناء اللہ
(ا) سالم بن عبداللہ اپنے والد رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو تکبر سے اپنے کپڑے کو (ٹخنوں سے نیچے) لٹکائے گا اللہ تعالیٰ اس کی طرف قیامت کے دن (نظر رحمت سے) نہیں دیکھے گا۔“
(ب) سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میرے تہبند کا ایک کنارہ لٹک جاتا ہے مگر میں پھر بھی اسے اوپر کرتا رہتا ہوں۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو نہیں ہے“ یا فرمایا: ”تو ان میں سے نہیں ہے جو تکبر کی وجہ سے اس طرح کرتے ہیں۔“ سبحان اللہ۔