حدیث نمبر: 3313
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ خَرَجَ فَرَأَى قَوْمًا يُصَلُّونَ قَدْ سَدَلُوا ثِيَابَهُمْ، فَقَالَ: كَأَنَّهُمُ الْيَهُودُ خَرَجُوا مِنْ فِهْرِهِمْ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ هُوَ مَوْضِعُ مَدَارِسِهِمُ الَّذِي يَجْتَمِعُونَ فِيهِ قَالَ: وَالسَّدْلُ إِسْبَالُ الرَّجُلِ ثَوْبَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَضُمَّ جَانِبَيْهِ بَيْنَ يَدَيْهِ فَإِنْ ضَمَّهُ فَلَيْسَ بِسَدْلٍ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْهُ أَنَّهُ كَرِهَهُ أَيْضًا مُجَاهِدٌ وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ وَيُذْكَرُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ثُمَّ عَنِ الْحَسَنِ وَابْنِ سِيرِينَ أَنَّهُمْ لَمْ يَرَوْا بِهِ بَأْسًا، وَكَأَنَّهُمْ إِنَّمَا ⦗٣٤٥⦘ رَخَّصُوا فِيهِ لِمَنْ يَفْعَلُهُ لِغَيْرِ مَخِيلَةٍ، فَأَمَّا مَنْ يَفْعَلُهُ بَطَرًا فَهُوَ مَنْهِيٌّ عَنْهُ، وَقَدْ أَشَارَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِلَى مَعْنَى هَذَا فِي كِتَابِ الْبُوَيْطِيِّ وَاحْتَجَّ بِمَتْنِ الْحَدِيثِ الَّذِي.
حافظ ثناء اللہ

(ا) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ باہر نکلے، انہوں نے کچھ لوگوں کو دیکھا جو اپنے کپڑوں کو لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہے ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: گویا کہ یہ یہودی ہیں جو اپنے «فِهْر» سے نکلے ہیں (فہر یہودیوں کا ایک تہوار تھا جو مارچ کی چودھویں اور پندرہویں تاریخوں میں منایا جاتا تھا)۔
(ب) ابوعبید رحمہ اللہ کہتے ہیں: «فِهْر» ان کی عبادت گاہ ہوتی ہے یا کوئی ایسی جگہ جہاں یہ جمع ہوتے ہیں اور «سَدْل» کا مطلب ہے کہ آدمی اپنے کپڑے کے دونوں کنارے ملائے بغیر انہیں سامنے کی طرف لٹکا دے۔ اگر ان کناروں کو ملا لے تو «سَدْل» نہ ہوگا۔
(ج) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول دو روایتوں میں سے ایک میں انہوں نے اس کو مکروہ قرار دیا ہے۔ اسی طرح مجاہد رحمہ اللہ اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے بھی اسے مکروہ کہا ہے اور جابر رضی اللہ عنہ، حسن رحمہ اللہ اور ابن سیرین رحمہ اللہ سے نقل کیا جاتا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
(د) انہوں نے اس میں جو رخصت دی ہے یہ اس شخص کے لیے ہے جو تکبر کی وجہ سے نہ کرے، لیکن جو تکبر کی وجہ سے کرے اس سے روکا گیا ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ نے بویطی کی کتاب میں اسی مفہوم کی طرف اشارہ کیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3313
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 1423»