السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: كراهية إسبال الإزار في الصلاة باب: نماز میں تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کی کراہت کا بیان
كَمَا أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ رَجَاءٍ، ثنا حَرْبٌ، عَنْ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ أَبَا جَعْفَرٍ الْمَدَنِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ رَجُلٌ يُصَلِّي، فَقَالَ: لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ " فَتَوَضَّأَ ثُمَّ عَادَ يُصَلِّي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ " فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا شَأْنُكَ أَمَرْتَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ ثُمَّ سَكَتَّ عَنْهُ؟ فَقَالَ: " إِنِّي إِنَّمَا أَمَرْتُهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ إِنَّهُ كَانَ مُسْبِلًا إِزَارَهُ وَلَا يَقْبَلُ اللهُ صَلَاةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ إِزَارَهُ " رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللهِ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ، فَأَسْقَطَ مَنْ بَيْنَ يَحْيَى وَعَطَاءٍ.عطاء بن یسار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ایک شخص آکر نماز پڑھنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے کہا: ”جاؤ جا کر وضو کرو۔“ اس نے وضو کیا، پھر نماز پڑھنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے پھر فرمایا: ”جاؤ وضو کرو۔“ تو ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے آپ اسے وضو کرنے کا حکم دیتے ہیں پھر چپ ہو جاتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس لیے اس کو وضو کرنے کا کہتا تھا کہ تہبند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا اور اللہ تعالیٰ اس کی نماز قبول نہیں کرتا جو تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھتا ہے۔“