حدیث نمبر: 3304
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي مُسْبِلٌ إِزَارَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ " فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا نَبِيَّ اللهِ مَا لَكَ أَمَرْتَهُ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ سَكَتَّ عَنْهُ؟ فَقَالَ: " إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ إِزَارَهُ " " هَكَذَا رَوَاهُ أَبَانُ الْعَطَّارُ، عَنْ يَحْيَى وَخَالَفَهُ حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ فِي إِسْنَادِهِ فَرَوَاهُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص اپنی تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا: ”جاؤ وضو کرو۔“ وہ شخص گیا اور وضو کر کے حاضر خدمت ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ وضو کرو۔“ وہ شخص گیا اور دوبارہ وضو کر کے آیا تو آپ ﷺ سے ایک شخص نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اسے وضو کرنے کا حکم کیوں دیا تھا؟ آپ ﷺ خاموش ہو گئے؟ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ٹخنوں سے نیچے تہبند لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا اور جو شخص تہبند لٹکا کر نماز پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی نماز قبول نہیں فرماتا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3304
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تقدم في الذي قبله»