السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: قراءة من قرأ وأرجلكم نصبا وأن الأمر رجع إلى الغسل وأن من قرأها خفضا فإنما هو للمجاورة باب: اس شخص کی قراءت کا بیان جس نے ”وأرجلكم“ کو نصب کے ساتھ پڑھا اور یہ کہ حکم دھونے کی طرف لوٹتا ہے، اور جس نے اسے جر (زیر) کے ساتھ پڑھا تو وہ محض مجاورت (پڑوس) کی وجہ سے ہے
حدیث نمبر: 330
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: أنا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ مَوْلَى قُرَيْشٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَؤُهَا كَذَلِكَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح پڑھا کرتے تھے (یعنی «أَرْجُلَكُمْ» )۔