السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أنه يزره إن كان جيبه واسعا ويدعه إن كان ضيقا باب: اس بات کی دلیل کہ اگر قمیص کا گریبان کشادہ ہو تو اس کے بٹن لگا لے اور اگر تنگ ہو تو اسے چھوڑ دے
حدیث نمبر: 3295
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ مَوْلًى لِقُرَيْشٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ مُعَاوِيَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ حَتَّى يَحْتَزِمَ " وَرَوَى عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ فِي قَمِيصٍ مَحْلُولَةٍ أَزْرَارُهُ مَخَافَةَ أَنْ يُرَى فَرْجُهُ إِذَا رَكَعَ حَتَّى يَزُرَّهُ قَالَ يَحْيَى: إِذْ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ أَزْرَارٌ وَهَذَا إِنْ كَانَ مُنْقَطِعًا فَهُوَ مُوَافِقٌ لِلْمَوْصُولِ قَبْلَهُ.حافظ ثناء اللہ
(ا) یزید بن خمیر سے روایت ہے کہ میں نے قریش کے ایک غلام کو کہتے ہوئے سنا: ابوہریرہ اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”نماز پڑھنے سے منع فرمایا جب تک کہ کمر پر پٹی نہ باندھ لی جائے“۔
(ب) عبداللہ بن مبارک ابن جریج سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث نقل کی کہ نبی ﷺ نے ”ایسی قمیص میں نماز ادا کرنے سے منع فرمایا ہے جس کا تہبند کھلا ہو“، اس لیے تاکہ رکوع کرتے وقت اس کی شرمگاہ نہ دیکھی جا سکے، اسے چاہیے کہ باندھ لے۔