أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْطَاكِيُّ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ النَّصِيبِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ دُرَيْكٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهَا ثِيَابٌ شَامِيَّةٌ رِقَاقٌ فَأَعْرَضَ عَنْهَا ثم قَالَ: " مَا هَذَا يَا أَسْمَاءُ؟ إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا بَلَغَتِ الْمَحِيضَ لَمْ يَصْلُحْ أَنْ يُرَى مِنْهَا إِلَّا هَذَا وَهَذَا، وَأَشَارَ إِلَى وَجْهِهِ وَكَفَّيْهِ " لَفْظُ حَدِيثِ الْمَالِينِيِّ. ⦗٣٢٠⦘ قَالَ: أَبُو دَاوُدَ: هَذَا مُرْسَلٌ، خَالِدُ بْنُ دُرَيْكٍ لَمْ يُدْرِكْ عَائِشَةَ. قَالَ الشَّيْخُ: مَعَ هَذَا الْمُرْسَلِ قَوْلُ مَنْ مَضَى مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تعالى عَنْهُمْ فِي بَيَانِ مَا أَبَاحَ اللهُ مِنَ الزِّينَةِ الظَّاهِرَةِ، فَصَارَ الْقَوْلُ بِذَلِكَ قَوِيًّا وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.(ا) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں، ان کے بدن پر شامی (باریک) لباس تھا تو رسول اللہ ﷺ نے منہ دوسری طرف پھیر دیا اور فرمایا: ”اے اسماء! عورت جب بالغ ہو جائے تو اس کے لیے مناسب نہیں کہ اس کا بدن دکھائی دے سوائے اس کے اور اس کے۔“ آپ ﷺ نے اپنے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کی طرف اشارہ فرمایا۔
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ حدیث مرسل ہے؛ خالد بن دریک کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات ثابت نہیں۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث مرسل ہے لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم کے جو اقوال گزر چکے ہیں کہ اللہ نے ظاہری زینت مباح قرار دی ہے تو ان شواہد کے ساتھ یہ قول قوی ہو جاتا ہے۔ «وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیقُ» ”اور اللہ ہی کے ساتھ توفیق ہے“۔