السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
جماع أبواب لبس المصلي -- باب: وجوب ستر العورة للصلاة وغيرها باب: نمازی کے لباس سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: نماز اور دیگر اوقات میں ستر عورت کے واجب ہونے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَالِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَأَنْ يَرْفَعَ الرَّجُلُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى وَهُوَ مُسْتَلْقٍ عَلَى ظَهْرِهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ النَّهْيُ عَنْ أَنْ يَرْفَعَ الرَّجُلُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى مَعَ ضِيقٍ مُسْتَلْقِيًا مِنْ أَجْلِ انْكِشَافِ الْعَوْرَةِ؛ لِأَنَّ الْمُسْتَلْقِيَ إِذَا رَفَعَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى مَعَ ضِيقِ الْإِزَارِ، لَمْ يَسْلَمْ مِنْ أَنْ يَنْكَشِفَ شَيْءٌ مِنْ فَخِذَيْهِ وَالْفَخِذُ عَوْرَةٌ، فَأَمَّا إِذَا كَانَ الْإِزَارُ سَابِغًا أَوْ كَانَ لَابِسُهُ عَنِ التَّكَشُّفِ مُتَوَقِّيًا فَلَا بَأْسَ بِهِ، قَالَهُ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ فِيمَا بَلَغَنِي عَنْهُ اسْتِدْلَالًا بِمَا.(ا) سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”«اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ» ”اشتمال صما“ سے منع فرمایا ہے، یعنی ایک کپڑے میں گوٹ مارنے اور کمر کے بل لیٹے ہوئے ایک ٹانگ کو اٹھا کر دوسری پر رکھنے سے“۔
(ب) اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آدمی کے لیٹے ہوئے ایک ٹانگ کو اٹھا کر دوسری ٹانگ پر رکھنے کی ممانعت ستر کے کھلنے کی وجہ سے ہو، کیونکہ لیٹنے والا آدمی جب تنگ تہہ بند میں ایک ٹانگ کو اٹھا کر دوسری پر رکھے تو اس کے ایسا کرنے سے کچھ نہ کچھ ضرور کھلے گا وہ سلامت نہ رہے گا اور ران خود ستر ہے۔ پس اگر تہہ بند سلا ہوا ہو یا اس کو پہننے والا ستر کھلنے سے بچتا ہو تو کوئی حرج نہیں۔ یہ بات ابو سلیمان خطابی رحمہ اللہ نے فرمائی ہے۔