السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
جماع أبواب لبس المصلي -- باب: وجوب ستر العورة للصلاة وغيرها باب: نمازی کے لباس سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: نماز اور دیگر اوقات میں ستر عورت کے واجب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3208
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ أَوْ يَمْشِيَ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ وَأَنْ يَشْتَمِلَ الصَّمَّاءَ وَأَنْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ كَاشِفًا عَنْ فَرْجِهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَاشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ عِنْدَ الْفُقَهَاءِ أَنْ يَشْتَمِلَ بِثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ ثُمَّ يَرْفَعَهُ مِنْ أَحَدِ جَانِبَيْهِ فَيَضَعَهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ فَيَبْدُوَ مِنْهُ فَرْجُهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”بائیں ہاتھ کے ساتھ کھانے، ایک جوتا پہن کر چلنے، «اِشْتِمَالِ صَمَّاء» کرنے اور ایک ہی کپڑے میں گوٹ مارنے سے کہ اس میں آسمان کی طرف شرمگاہ کھل جائے، منع فرمایا ہے۔“
فقہاء کے نزدیک «اِشْتِمَال» سے مراد یہ ہے کہ آدمی ایک ہی کپڑا لپیٹ لے، اس کے علاوہ اس پر اور کوئی کپڑا نہ ہو، پھر اس کو ایک طرف سے اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھ دے تو اس سے اس کی شرمگاہ کھل جاتی ہے۔