السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
جماع أبواب لبس المصلي -- باب: وجوب ستر العورة للصلاة وغيرها باب: نمازی کے لباس سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: نماز اور دیگر اوقات میں ستر عورت کے واجب ہونے کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُسْلِمًا الْبَطِينَ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَتِ " الْمَرْأَةُ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَهِيَ عُرْيَانَةٌ، وَعَلَى فَرْجِهَا خِرْقَةٌ وَهِيَ تَقُولُ: الْيَوْمَ يَبْدُو بَعْضُهُ أَوْ كَلُّهُ فَمَا بَدَا مِنْهُ فَلَا أُحِلُّهُ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللهِ} [الأعراف: ٣٢] الْآيَةُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، وَابْنِ بَشَّارٍ، عَنْ غُنْدَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ قَالَ: الشَّافِعِيُّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُصَلِّي أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى عَاتِقِهِ مِنْهُ شَيْءٌ " فَدَلَّ أَنْ لَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يُصَلِّيَ إِلَّا لَابِسًا إِذَا قَدَرَ عَلَى مَا يَلْبَسُ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ زمانہ جاہلیت میں عورت ننگے بدن بیت اللہ کا طواف کیا کرتی تھی، صرف اس کی شرم گاہ پر کپڑے کا ایک ٹکڑا سا ہوتا تھا اور یہ شعر پڑھا کرتی: «الْيَوْمَ يَبْدُو بَعْضُهُ أَوْ كُلُّهُ فَمَا بَدَا مِنْهُ فَلَا أُحِلُّهُ»
”آج کے دن اس کا بعض حصہ یا سارا ظاہر ہوگا، پس جو اس سے ظاہر ہوا ہے، میں اسے حلال نہیں ہونے دوں گی۔“
چنانچہ یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ﴾ [سورة الأعراف: 32] ”کہہ دیجیے اللہ کی زینت کو کس نے حرام قرار دیا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھے پر کپڑے کا کچھ حصہ نہ ہو۔“ یہ فرمانِ رسول اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ لباس کے بغیر نماز پڑھے جب کہ اسے کسی قدر بھی لباس پر قدرت ہو۔