السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
جماع أبواب لبس المصلي -- باب: وجوب ستر العورة للصلاة وغيرها باب: نمازی کے لباس سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: نماز اور دیگر اوقات میں ستر عورت کے واجب ہونے کا بیان
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ {خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ} [الأعراف: 31] قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَقِيلَ وَاللهُ أَعْلَمُ: الثِّيَابُ وَهُوَ يُشْبِهُ مَا قِيلَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا قَوْلُ طَاوُسٍ وَقَالَ مُجَاهِدٌ مَا وَارَى عَوْرَتَكَ وَلَوْ عَبَاءَةٌ.اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ﴾ ”ہر مسجد (میں نماز کی حاضری) کے وقت اپنی زینت اختیار کرو۔“ [سورة الأعراف: 31]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس سے مراد کپڑے ہیں، اور اللہ بہتر جانتا ہے، اور یہ اسی کے مشابہ ہے جو کہا گیا ہے۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اور یہ طاؤس کا قول ہے۔“
اور مجاہد نے فرمایا: ”(زینت سے مراد) وہ چیز ہے جو تمہارے ستر کو چھپا لے، خواہ وہ عباء (چوغہ) ہی کیوں نہ ہو۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ الْعَطَّارُ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ} [الأعراف: ٣١] قَالَ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا طَافَتْ بِالْبَيْتِ تُخْرِجُ صَدْرَهَا وَمَا هُنَاكَ فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى {خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ} [الأعراف: ٣١].سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے قول ﴿خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ﴾ [سورة الأعراف: 31] کے بارے میں فرماتے ہیں: (زمانہ جاہلیت) میں عورت جب بیت اللہ کا طواف کرتی تو اپنا سینہ نکال لیتی، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل کی: ﴿خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ﴾ [سورة الأعراف: 31] ”ہر نماز کے وقت زینت اختیار کرو۔“