السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من ذكر صلاة وهو في أخرى باب: اس شخص کا بیان جسے ایک نماز کے دوران دوسری نماز یاد آ جائے
حدیث نمبر: 3192
قَدِ احْتَجَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا فِي ذَلِكَ بِعُمُومِ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلُّوا مَا أَدْرَكْتُمْ ثُمَّ اقْضُوا مَا فَاتَكُمْ ".حافظ ثناء اللہ
ہمارے بعض اصحاب نے اس بارے میں نبی کریم ﷺ کے اس عمومی فرمان سے استدلال کیا ہے کہ: ”نماز کا جتنا حصہ پاؤ پڑھ لو، پھر جو تم سے چھوٹ جائے اسے پورا کرو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ⦗٣١٣⦘ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَلَا تَأْتُوهَا تَسْعَوْنَ وَأْتُوهَا تَمْشُونَ، وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ فَصَلُّوا مَا أَدْرَكْتُمْ وَاقْضُوا مَا فَاتَكُمْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے آؤ تو دوڑ کر نہ آؤ، اطمینان و سکون سے چل کر آؤ، جو پالو وہ پڑھ لو اور جو فوت ہو جائے اس کو پورا کرلو۔“