السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال بترك الترتيب في قضائهن، وهو قول طاوس والحسن باب: اس قول کا بیان جس نے قضا نمازوں میں ترتیب چھوڑنے کا کہا ہے، اور یہ طاؤس اور حسن رحمہما اللہ کا قول ہے
أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي جُمَعَةَ حَبِيبِ بْنِ سِبَاعٍ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْأَحْزَابِ صَلَّى الْمَغْرِبَ وَنَسِيَ الْعَصْرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: " هَلْ رَأَيْتُمُونِي صَلَّيْتُ الْعَصْرَ؟ " قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللهِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤَذِّنَ فَأَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى الْعَصْرَ وَنَقَضَ الْأُولَى ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ " وَرُوِّينَا فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ بَعْدَهَا، فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ فَعَلَ ذَلِكَ فِي يَوْمٍ " وَمَا رُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ آخَرَ، وَمَا رُوِّينَاهُ فِي حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ فِي يَوْمٍ آخَرَ وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِقَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بَيْنَ غُرُوبِ الشَّمْسِ وَوَقْتِ الْعِشَاءِ " فَيَكُونَ مُوَافِقًا لِرِوَايَةِ جَابِرٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا ابو جمعہ حبیب بن سباع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خندق والے دن مغرب کی نماز پڑھی اور عصر کی نماز پڑھنا بھول گئے۔ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دریافت کیا: ”کیا تم نے مجھے عصر کی نماز پڑھتے دیکھا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”نہیں اے اللہ کے رسول ﷺ!“ تو رسول اللہ ﷺ نے مؤذن کو اذان دینے کا حکم دیا، پھر اقامت کے بعد عصر کی نماز پڑھائی، پہلی کو توڑ دیا، پھر مغرب کی نماز ادا کی۔
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے عصر کی نماز پڑھی، پھر اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔ اس روایت میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ آپ ﷺ نے اس طرح ایک دن کیا ہو اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کسی دوسرے دن کے بارے میں روایت کرتے ہیں اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی احادیث کسی اور دن کے بارے میں ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قول «بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ» ”مغرب اور عشا کے درمیان“ سے مراد غروبِ آفتاب اور عشا کے درمیان کا وقت ہے۔
اگر اس طرح مان لیں تو یہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما کی روایت کے موافق ہو گا۔ واللہ اعلم۔