السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: لا تفريط على من نام عن صلاة، أو نسيها حتى ذهب وقتها، وعليه قضاؤها إذا ذكرها، لا كفارة لها إلا ذلك باب: اس شخص پر کوئی کوتاہی نہیں جو نماز سے سو گیا، یا اسے بھول گیا یہاں تک کہ اس کا وقت نکل گیا، اور جب اسے یاد آئے تو اس پر اس کی قضا لازم ہے، اس کے سوا اس کا کوئی کفارہ نہیں
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْبُرُلُّسِيُّ، ثنا أَبُو ثَابِتٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ أَبِي الْعَطَّافِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَوَقْتُهَا إِذَا ذَكَرَهَا " كَذَا رَوَاهُ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْعَطَّافِ، وَقَدْ قِيلَ عَنْهُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، أَوْ عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ قَالَ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ وَالصَّحِيحُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَغَيْرِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا ذَكَرْنَا لَيْسَ فِيهِ: فَوَقْتُهَا إِذَا ذَكَرَهَا، وَفِي حَدِيثِ أَبِي قَتَادَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَغَيْرِهِمَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ وَقْتَ الْقَضَاءِ لَا يَتَضَيَّقُ وَلَوْ كَانَ يَتَضَيَّقُ لَأَشْبَهَ أَنْ لَا يُؤَخِّرَهَا عَنْ حَالِ الِانْتِبَاهِ لِمَكَانِ الشَّيْطَانِ فَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْنُقُ الشَّيْطَانَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَخَنْقُهُ الشَّيْطَانِ فِي الصَّلَاةِ أَكْبَرُ مِنْ وَادٍ فِيهِ شَيْطَانٌ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو آدمی نماز پڑھنا بھول جائے تو جب اسے یاد آجائے وہی اس کا وقت ہے، لہٰذا اسی وقت پڑھ لے۔“
اسی طرح اسے حفص بن عمر بن ابی العطاف نے روایت کیا ہے اور وہ منکر الحدیث ہے، یہ بات امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ نے کہی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وغیرہ سے صحیح روایت وہی ہے جو ہم نے ذکر کی، اس میں «فَوَقْتُهَا إِذَا ذَكَرَهَا» ”پس اس کا وقت وہی ہے جب وہ اسے یاد کرے“ کے الفاظ نہیں ہیں۔
سیدنا ابوقتادہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ قضا کا وقت تنگ نہیں ہوتا اور اگر تنگ ہوتا تو زیادہ مناسب یہ تھا کہ اسے بیدار ہونے کی حالت سے شیطان کی موجودگی کی وجہ سے مؤخر نہ کیا جاتا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس حال میں نماز پڑھی تھی کہ آپ شیطان کا گلا گھونٹ رہے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نماز میں شیطان کا گلا گھونٹنا اس وادی سے بڑا معاملہ ہے جس میں شیطان ہو۔