السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: لا تفريط على من نام عن صلاة، أو نسيها حتى ذهب وقتها، وعليه قضاؤها إذا ذكرها، لا كفارة لها إلا ذلك باب: اس شخص پر کوئی کوتاہی نہیں جو نماز سے سو گیا، یا اسے بھول گیا یہاں تک کہ اس کا وقت نکل گیا، اور جب اسے یاد آئے تو اس پر اس کی قضا لازم ہے، اس کے سوا اس کا کوئی کفارہ نہیں
حدیث نمبر: 3179
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، وَأَبُو الْوَلِيدِ، وَمُسْلِمٌ، قَالُوا: ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا وَلَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا ذَلِكَ " ثُمَّ قَرَأَ قَتَادَةُ {أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي} [طه: ١٤] رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آئے پڑھ لے اور اس کا کفارہ یہی ہے کہ وہ نماز قضا کرلے۔“ پھر قتادہ نے یہ آیت کریمہ تلاوت کی: ﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ [سورة طه: 14] ”اور میرے ذکر کے لیے نماز قائم کرو۔“