السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: لا تفريط على من نام عن صلاة، أو نسيها حتى ذهب وقتها، وعليه قضاؤها إذا ذكرها، لا كفارة لها إلا ذلك باب: اس شخص پر کوئی کوتاہی نہیں جو نماز سے سو گیا، یا اسے بھول گیا یہاں تک کہ اس کا وقت نکل گیا، اور جب اسے یاد آئے تو اس پر اس کی قضا لازم ہے، اس کے سوا اس کا کوئی کفارہ نہیں
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، أنبأ أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيُّ وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ تُفَقِّهُهُ، فَحَدَّثَنَا قَالَ: ثنا أَبُو قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ فَارِسُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ قِصَّةَ نَوْمِهِمْ عَنِ الصَّلَاةِ إِلَى أَنْ قَالَ: فَمَا اسْتَيْقَظْنَا إِلَّا بِالشَّمْسِ طَالِعَةً عَلَيْنَا، فَقُمْنَا وَهِلِينَ لِصَلَاتِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رُوَيْدًا رُوَيْدًا " حَتَّى تَعَالَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ قَالَ: " مَنْ كَانَ يُصَلِّي هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ فَلْيُصَلِّهِمَا " قَالَ: فَصَلَّاهُمَا مَنْ كَانَ يُصَلِّيهِمَا وَمَنْ كَانَ لَا يُصَلِّيهِمَا، ثُمَّ أَمَرَ فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ ثُمَّ تَقَدَّمَ فَصَلَّى بِنَا فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: " إِنَّا بِحَمْدِ اللهِ لَمْ نَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا شَغَلَنَا عَنْ صَلَاتِنَا، وَلَكِنَّ أَرْوَاحَنَا كَانَتْ بِيَدِ اللهِ أَرْسَلَهَا إِذَا شَاءَ فَمَنْ أَدْرَكَتْهُ هَذِهِ الصَّلَاةُ مِنْ غَدٍ صَالِحًا فَلْيُصَلّ مَعَهَا مِثْلَهَا " قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ: لَا يُتَابَعُ فِي قَوْلِهِ: " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا وَلِوَقْتِهَا مِنَ الْغَدِ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ قَالَ: قَالَ مُحَمَّدٌ فَذَكَرَهُ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَى ضَعْفِ هَذِهِ الْكَلِمَةِ وَأَنَّ الصَّحِيحَ مَا مَضَى مِنْ رِوَايَةِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ أَحَدُ الرَّكْبِ كَمَا حَدَّثَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَبَاحٍ عَنْهُ، وَقَدْ صَرَّحَ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ بِأَنْ لَا يَجِبَ مَعَ الْقَضَاءِ غَيْرُهُ.(ا) خالد بن سمیر روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن رباح انصاری رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے، انصار انھیں فقیہ کہا کرتے تھے۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے گھڑ سوار ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی۔۔۔
پھر انھوں نے نیند کی وجہ سے نماز رہ جانے والی مکمل حدیث ذکر کی اور فرمایا کہ جب سورج طلوع ہو کر کافی بلند ہو گیا تو ہم بیدار ہوئے، ہم نماز کے لیے جلدی کرنے لگے تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”ٹھہرو! تاکہ سورج اچھی طرح طلوع ہو جائے۔“ پھر جب سورج کافی بلند ہو گیا تو فرمایا: ”جو شخص فجر کی دو رکعتیں (سنتیں) پڑھتا ہے وہ پڑھ لے“ تو تمام لوگ کھڑے ہو گئے اور دو رکعتیں ادا کیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اذان کے لیے حکم دیا اور نماز کے لیے اذان کہی گئی۔ پھر رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے اور ہمیں نماز پڑھائی۔ پھر جب نماز سے سلام پھیر کر فارغ ہوئے تو فرمایا: ”تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں (اللہ کا شکر ہے) کہ ہمیں کسی دنیوی کام کی مشغولیت نے نماز سے غافل نہیں کیا، ہماری روحیں تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں تھیں، اس ذات نے جب چاہا ان (روحوں) کو آزاد کر دیا“ اور فرمایا: ”جو شخص کل فجر کی نماز کو وقت پر پالے تو اس جیسی ایک نماز اور پڑھ لے۔“
(ب) امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے اس قول کا متابع موجود نہیں ہے کہ جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آئے نماز پڑھ لے اور آئندہ وقت پر ادا کرے۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ چیز جو اس کلمہ کے ضعف پر دلالت کرتی ہے اور صحیح بھی وہی ہے۔ یہ سلیمان بن مغیرہ کی حدیث میں گزر چکی ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اسی قافلے کے ایک مسافر تھے جیسا کہ عبداللہ بن رباح نے بھی ان سے بیان کیا ہے اور انھوں نے اس حدیث کے بارے میں تصریح فرما دی کہ قضا کے علاوہ کچھ بھی واجب نہ ہو گا۔