السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: لا تفريط على من نام عن صلاة، أو نسيها حتى ذهب وقتها، وعليه قضاؤها إذا ذكرها، لا كفارة لها إلا ذلك باب: اس شخص پر کوئی کوتاہی نہیں جو نماز سے سو گیا، یا اسے بھول گیا یہاں تک کہ اس کا وقت نکل گیا، اور جب اسے یاد آئے تو اس پر اس کی قضا لازم ہے، اس کے سوا اس کا کوئی کفارہ نہیں
حدیث نمبر: 3171
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي مَنِيعِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَشُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَا: ثنا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، أنبأ حُصَيْنٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: سَرَيْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ فِي سَفَرٍ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، لَوْ عَرَّسْتَ بِنَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي نَوْمِهِمْ عَنِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حِينَ شَاءَ، وَرَدَّهَا عَلَيْكُمْ حِينَ شَاءَ " ثُمَّ أَمَرَهُمْ فَانْتَشَرُوا لِحَاجَتِهِمْ وَتَوَضَّئُوا وَارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى بِهِمْ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ هُشَيْمٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے تو ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اگر آپ ہمیں قیام کی اجازت دے دیں؟“ پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کی نیند کی وجہ سے نماز رہ جانے والی مکمل حدیث ذکر کی۔۔۔ اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جب تک چاہا تمہاری روحوں کو روکے رکھا اور جب چاہا چھوڑ دیا۔“ پھر آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ قضائے حاجت کو نکل گئے، پھر انہوں نے وضو کیا اور سورج بلند ہوچکا تھا۔ پھر آپ نے انہیں نماز پڑھائی۔