❮
❯
حدیث نمبر: 3144
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ بَعْدَ الْقِرَاءَةِ قَبْلَ الرُّكُوعِ: " اللهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ، نَرْجُو رَحْمَتَكَ، وَنَخْشَى عَذَابَكَ، إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكَافِرِينَ مُلْحِقٌ، اللهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ، وَنُثْنِي عَلَيْكَ الْخَيْرَ، وَلَا نَكْفُرُكَ، وَنُؤْمِنُ بِكَ، وَنَخْضَعُ لَكَ، وَنَخْلَعَ مَنْ يَكْفُرُكَ " كَذَا قَالَ قَبْلَ الرُّكُوعِ وَهُوَ وَإِنْ كَانَ إِسْنَادًا صَحِيحًا فَمَنْ رَوَى عَنْ عُمَرَ قُنُوتَهُ بَعْدَ الرُّكُوعِ أَكْثَرُ فَقَدْ رَوَاهُ أَبُو رَافِعٍ، وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ، وَأَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ، وَزَيْدُ بْنُ وَهْبٍ وَالْعَدَدُ أَوْلَى بِالْحِفْظِ مِنَ الْوَاحِدِ وَفِي حُسْنِ سِيَاقِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ لِلْحَدِيثِ دَلَالَةٌ عَلَى حِفْظِهِ وَحِفْظِ مَنْ حَفِظَ عَنْهُ وَرُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَنَتَ فِي الْفَجْرِ فَقَالَ: " اللهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ " وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلَاءِ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي دُعَاءِ الْقُنُوتِ: " إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكُفَّارِ مُلْحِقٌ " يَعْنِي بِخَفْضِ الْحَاءِ.
حافظ ثناء اللہ

سعید بن عبدالرحمن بن ابزی اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پیچھے صبح کی نماز پڑھی تو انہیں قراءت کے بعد رکوع سے پہلے یہ پڑھتے ہوئے سنا: «اللّٰهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ، وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ، نَرْجُو رَحْمَتَكَ، وَنَخْشَى عَذَابَكَ، إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكَافِرِينَ مُلْحِقٌ، اللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ، وَنُثْنِي عَلَيْكَ الْخَيْرَ، وَلَا نَكْفُرُكَ، وَنُؤْمِنُ بِكَ، وَنَخْضَعُ لَكَ، وَنَخْلَعُ مَنْ يَكْفُرُكَ» ”اے اللہ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے لیے ہی نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں اور تیری طرف ہی دوڑتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں۔ اور تیری رحمت کے امیدوار ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بیشک تیرا عذاب کافروں کو ملنے والا ہے۔ اے اللہ! ہم تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں اور تجھ ہی سے بخشش چاہتے ہیں اور بھلائی کے ساتھ تیری ثنا کرتے ہیں اور تیرے ساتھ کفر نہیں کرتے اور تجھ پر ایمان لاتے ہیں اور تیرے آگے جھکتے ہیں اور جو تیرا انکار کرے اس سے علیحدہ ہوتے ہیں۔“ انہوں نے اسی طرح رکوع سے پہلے کہا۔
اگرچہ اس کی سند صحیح ہے، لیکن جنہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے رکوع کے بعد قنوت پڑھنا روایت کیا ہے ان کی تعداد زیادہ ہے۔ اسے ابورافع، عبید بن عمیر، ابوعثمان نہدی اور زید بن وہب نے روایت کیا ہے، اور ایک سے زیادہ راوی ایک راوی کی نسبت حفظ کے زیادہ لائق ہیں اور عبید بن عمیر کے سیاق کلام کی خوبصورتی ان کے حفظ پر اور جس نے ان سے حفظ کیا پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا گیا کہ انہوں نے فجر کی نماز میں قنوت پڑھی تو یہ دعا کی: «اللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ» ”اے اللہ! ہم تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں اور تجھ ہی سے بخشش طلب کرتے ہیں۔“
اور ابوعمرو بن علا کے واسطے سے ہمیں حدیث بیان کی گئی کہ وہ دعائے قنوت میں پڑھتے تھے: «إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكُفَّارِ مُلْحِقٌ» ”بیشک تیرا عذاب کافروں کو ملنے والا ہے“، یعنی حاء کے زیر کے ساتھ۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3144
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»