حدیث نمبر: 3131
أَخْبَرَنَا أَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ الْعَطَّارُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: إِنَّمَا " قَنَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا " فَقُلْتُ: كَيْفَ الْقُنُوتُ؟ قَالَ: " بَعْدَ الرُّكُوعِ فَهُوَ ذَا قَدْ أَخْبَرَ أَنَّ الْقُنُوتَ الْمُطْلَقَ الْمُعْتَادَ بَعْدَ الرُّكُوعِ، وَقَوْلُهُ: إِنَّمَا قَنَتَ شَهْرًا، يُرِيدُ بِهِ اللَّعْنَ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ، وَرُوَاةُ الْقُنُوتِ بَعْدَ الرُّكُوعِ أَكْثَرُ وَأَحْفَظُ، فَهُوَ أَوْلَى وَعَلَى هَذَا دَرَجَ الْخُلَفَاءُ الرَّاشِدُونَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فِي أَشْهَرِ الرِّوَايَاتِ عَنْهُمْ وَأَكْثَرِهَا.
حافظ ثناء اللہ

(ا) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”ایک ماہ تک قنوت پڑھی۔“ میں نے پوچھا: کس وقت؟ انھوں نے بتایا کہ ”رکوع کے بعد۔“
(ب) قنوت رکوع کے بعد ہی پڑھی جائے گی۔
(ج) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے قول «إِنَّمَا قَنَتَ شَهْرًا» ”صرف ایک ماہ تک قنوت پڑھی“ سے مراد بددعا اور لعنت ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
(د) رکوع کے بعد قنوت پڑھنے کے راوی اکثر بھی ہیں اور حفظ میں بھی پختہ ہیں، لہٰذا زیادہ بہتر یہی ہے اور اس پر خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے بھی عمل کیا۔ ان سے منقول مشہور روایات موجود ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3131
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»