السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أنه يقنت بعد الركوع باب: اس بات کی دلیل کہ قنوت رکوع کے بعد پڑھی جائے
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ، أنبأ مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا: ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الْقُنُوتِ، فَقَالَ: قَدْ كَانَ الْقُنُوتُ، قُلْتُ: قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ؟ قَالَ: قَبْلَهُ، قُلْتُ: إِنَّ فُلَانًا أَخْبَرَنِي عَنْكَ أَنَّكَ قُلْتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ قَالَ: كَذَبَ إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرُّكُوعِ شَهْرًا، إِنَّهُ كَانَ بَعَثَ قَوْمًا يُقَالُ لَهُمُ الْقُرَّاءُ، زُهَاءُ سَبْعِينَ رَجُلًا إِلَى قَوْمٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَقَتَلَهُمْ قَوْمٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ دُونَ أُولَئِكَ، وَكَانَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ فَقَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَيْهِمْ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ أَنَّ الْقُنُوتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ إِنَّمَا كَانَ شَهْرًا حِينَ كَانَ يَدْعُو عَلَى الَّذِينَ قَتَلُوا الْقُرَّاءَ، وَأَوْهَمَ أَنَّ الْقُنُوتَ قَبْلَ ذَلِكَ وَبَعْدَهُ إِنَّمَا هُوَ قَبْلَ الرُّكُوعِ وَرَوَى عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ فِي قِصَّةِ الْقُرَّاءِ، قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا عَلَيْهِمْ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ وَذَلِكَ بَدْءُ الْقُنُوتِ، وَمَا كُنَّا نَقْنُتُ، ثُمَّ رَوَى عَبْدُ الْعَزِيزِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ أَنَسًا عَنِ الْقُنُوتِ أَبْعَدَ الرُّكُوعِ أَوْ عِنْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الْقِرَاءَةِ؟ قَالَ: لَا، بَلْ عِنْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الْقِرَاءَةِ وَقَدْ رُوِّينَا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي غَيْرِ قِصَّةِ الْقُرَّاءِ أَنَّ قُنُوتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ كَانَ بَعْدَ الرُّكُوعِ وَكَذَلِكَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ.عاصم احول بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قنوت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ قنوت پڑھتے تھے۔ میں نے کہا: رکوع سے پہلے یا بعد میں؟ انہوں نے فرمایا: ”رکوع سے پہلے۔“ میں نے کہا: فلاں صاحب آپ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: رکوع کے بعد ہے۔ انہوں نے فرمایا: ”وہ صاحب غلط کہتے ہیں۔“ رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینے تک قنوت پڑھی تھی وہ بھی رکوع کے بعد۔ ہوا یہ تھا کہ آپ ﷺ نے صحابہ میں سے ستر قاریوں کو مشرکین کی ایک قوم (بنی عامر) کی طرف (ان کو تعلیم دینے کے لیے) بھیجا تھا لیکن انہیں ان لوگوں کے علاوہ مشرکوں کی ایک قوم نے شہید کر دیا۔ ان کے اور آپ ﷺ کے درمیان عہد تھا لیکن انہوں نے عہد شکنی کی تو آپ ﷺ ایک ماہ تک ان کے خلاف بددعا کرتے رہے۔
(ب) عاصم احول سے مروی ہے کہ قنوت رکوع کے بعد ہے۔ آپ ﷺ نے ایک مہینہ تک قنوت پڑھی تھی۔ یہ ان قراء کے قاتلوں پر بددعا تھی۔ انہیں یہ وہم ہوا ہے کہ قنوت رکوع سے پہلے بھی ہے اور بعد میں بھی۔ حالانکہ یہ رکوع سے پہلے ہی ہے۔
(ج) عبدالعزیز بن صہیب نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قراء کے قصے کے بارے میں روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ماہ تک صبح کی نماز میں ان پر بددعا کی۔
اور یہ قنوت کی ابتدا تھی۔ ہم اس سے پہلے قنوت نہیں پڑھتے تھے۔
(د) پھر عبدالعزیز نے روایت کیا کہ ایک شخص نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قنوت کے بارے میں دریافت کیا کہ کیا وہ رکوع سے پہلے ہے یا قرأت سے فارغ ہونے کے بعد؟ انہوں نے فرمایا: ”وہ قرأت سے فراغت کے بعد ہے۔“
(ہ) اور ہمیں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے قراء کے قصے کے علاوہ روایت پہنچی ہے کہ نبی ﷺ کی قنوت رکوع کے بعد تھی۔ اسی طرح سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے۔