حدیث نمبر: 3123
أَخْبَرَنَا أَبُو الْخَيْرِ جَامِعُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْوَكِيلُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ ⦗٢٩٣⦘ الْمُحَمَّدَ آبَادِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سُئِلَ: هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقِيلَ لَهُ: قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ؟ قَالَ: " بَعْدَ الرُّكُوعِ يَسِيرًا " قَالَ: فَلَا أَدْرِي: الْيَسِيرُ الْقِيَامُ أَوِ الْقُنُوتُ؟ لَفْظُ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ، وَفِي حَدِيثِ مُسَدَّدٍ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ؟ قَالَ: " بَعْدَ الرُّكُوعِ يَسِيرًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے کسی نے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز میں قنوت (نازلہ) پڑھی ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ پھر دریافت کیا گیا کہ رکوع سے پہلے یا بعد میں؟ انہوں نے فرمایا: رکوع کے بعد مختصر سے وقت میں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ مختصر قنوت کا ذکر کیا یا قیام کا۔
یہ سلیمان کی حدیث کے الفاظ ہیں اور مسدد کی حدیث میں ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا: کیا نبی ﷺ نے صبح کی نماز میں قنوت (نازلہ) رکوع سے پہلے پڑھی ہے یا بعد میں؟ انہوں نے فرمایا: رکوع کے بعد مختصر مدت کے لیے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3123
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 956»