حدیث نمبر: 3101
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عِيسَى، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَا: أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْيَانَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ الْعَتَمَةَ وَقَالَ فِي صَلَاتِهِ: شَهْرًا إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ يَقُولُ فِي قُنُوتِهِ وَرَوَاهُ حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بِمَعْنَى رِوَايَةِ الْأَوْزَاعِيِّ وَفِي آخِرِهِ لَمْ يَزَلْ يَدْعُو حَتَّى نَجَّاهُمُ اللهُ ثُمَّ تَرَكَ الدُّعَاءَ لَهُمْ وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى، عَنْ حَرْبٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا لَكَ لَمْ تَدْعُ لِلنَّفَرِ؟ قَالَ: " أَوَ مَا عَلِمْتَ أَنَّهُمْ قَدْ قَدِمُوا ".
حافظ ثناء اللہ

(ا) ایک دوسری سند میں ولید بن مسلم نے اسی طرح کی روایت بیان کی مگر انہوں نے عشا کا ذکر نہیں کیا بلکہ فرمایا: آپ ﷺ کسی نماز میں ایک ماہ تک قنوت پڑھتے رہے، جب «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہتے اور پھر اپنی قنوت میں یہ کہتے۔۔۔
(ب) حرب بن شداد نے یحییٰ بن ابی کثیر کے واسطے سے اوزاعی کی روایت کے معنیٰ میں روایت نقل کی ہے اور اس کے آخر میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسلسل ان کے لیے دعا کرتے رہے حتیٰ کہ اللہ نے انہیں نجات دے دی۔ پھر آپ ﷺ نے ان کے لیے دعا کرنا چھوڑ دی۔ حرب سے منقول ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ اب آپ ان لوگوں کے لیے دعا نہیں کرتے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں پتا نہیں ہے کہ وہ نجات پاچکے ہیں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3101
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»