السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ترك القنوت في سائر الصلوات غير الصبح عند ارتفاع النازلة وفي صلاة الصبح لقوم أو على قوم بأسمائهم أو قبائلهم باب: مصیبت کے ٹل جانے پر فجر کے علاوہ باقی نمازوں میں قنوت ترک کرنے اور فجر کی نماز میں کسی قوم کے لیے یا کسی قوم کے خلاف ان کے ناموں یا قبیلوں کے ساتھ قنوت ترک کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عِيسَى، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَا: أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْيَانَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ الْعَتَمَةَ وَقَالَ فِي صَلَاتِهِ: شَهْرًا إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ يَقُولُ فِي قُنُوتِهِ وَرَوَاهُ حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بِمَعْنَى رِوَايَةِ الْأَوْزَاعِيِّ وَفِي آخِرِهِ لَمْ يَزَلْ يَدْعُو حَتَّى نَجَّاهُمُ اللهُ ثُمَّ تَرَكَ الدُّعَاءَ لَهُمْ وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى، عَنْ حَرْبٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا لَكَ لَمْ تَدْعُ لِلنَّفَرِ؟ قَالَ: " أَوَ مَا عَلِمْتَ أَنَّهُمْ قَدْ قَدِمُوا ".(ا) ایک دوسری سند میں ولید بن مسلم نے اسی طرح کی روایت بیان کی مگر انہوں نے عشا کا ذکر نہیں کیا بلکہ فرمایا: آپ ﷺ کسی نماز میں ایک ماہ تک قنوت پڑھتے رہے، جب «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہتے اور پھر اپنی قنوت میں یہ کہتے۔۔۔
(ب) حرب بن شداد نے یحییٰ بن ابی کثیر کے واسطے سے اوزاعی کی روایت کے معنیٰ میں روایت نقل کی ہے اور اس کے آخر میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسلسل ان کے لیے دعا کرتے رہے حتیٰ کہ اللہ نے انہیں نجات دے دی۔ پھر آپ ﷺ نے ان کے لیے دعا کرنا چھوڑ دی۔ حرب سے منقول ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ اب آپ ان لوگوں کے لیے دعا نہیں کرتے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں پتا نہیں ہے کہ وہ نجات پاچکے ہیں۔“