السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الترغيب في مكث المصلي في مصلاه لإطالة ذكر الله تعالى في نفسه، وكذلك الإمام إذا انحرف باب: نمازی کا اپنی نماز کی جگہ پر دل میں اللہ تعالیٰ کے طویل ذکر کے لیے ٹھہرے رہنے کی ترغیب، اور اسی طرح امام کا رخ موڑنے کے بعد ٹھہرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ الْمِصْرِيُّ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ وَالْأَمْوَالِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَى وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ، فَقَالَ: " وَمَا ذَاكَ؟ " قَالُوا: يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ، وَيَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ، وَيُعْتِقُونَ وَلَا نُعْتِقُ قَالَ: " أَفَلَا أُعَلِّمُكُمْ شَيْئًا تُدْرِكُونَ بِهِ مَنْ سَبَقَكُمْ وَتَسْبِقُونَ بِهِ مَنْ ⦗٢٦٦⦘ بَعْدَكُمْ وَلَا يَكُونُ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِنْكُمْ إِلَّا مَنْ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُمْ " قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " تُسَبِّحُونَ اللهَ وَتُكَبِّرُونَ وَتَحْمَدُونَ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ " قَالَ سُمَيٌّ: فَحَدَّثْتُ بَعْضَ أَهْلِي هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: وَهِمْتَ إِنَّمَا قَالَ: " تُسَبِّحُ اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتَحْمَدُ اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتُكَبِّرُ اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ " فَرَجَعْتُ إِلَى أَبِي صَالِحٍ فَقُلْتُ لَهُ ذَلِكَ فَأَخَذَ بِيَدِي وَقَالَ: تَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ وَسُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ حَتَّى يَبْلُغَ مِنْ جَمِيعِهِنَّ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ قَالَ أَبُو صَالِحٍ: ثُمَّ رَجَعَ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: قَدْ سَمِعَ إِخْوَانُنَا أَهْلُ الْأَمْوَالِ مَا قُلْتَ فَفَعَلُوا مِثْلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَذَلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ " قَالَ ابْنُ عَجْلَانَ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ رَجَاءَ بْنَ حَيْوَةَ فَحَدَّثَنِي بِمِثْلِهِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ سِوَى قَوْلِ سُمَيٍّ، ثُمَّ قَالَ: وَزَادَ غَيْرُ قُتَيْبَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فَذَكَرَهُ وَرَوَاهُ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَدْرَجَ قَوْلَ أَبِي صَالِحٍ فِي رُجُوعِ فُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ فِي الْحَدِيثِ وَزَادَ: يَقُولُ سُهَيْلٌ: إِحْدَى عَشْرَةَ إِحْدَى عَشْرَةَ إِحْدَى عَشْرَةَ، فَجَمِيعُ ذَلِكَ كُلِّهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثُونَ، وَلِسُهَيْلٍ فِيهِ إِسْنَادٌ آخَرُ بِزِيَادَةِ مَتْنٍ وَزِيَادَةِ عَدَدٍ.(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فقراء مہاجرین رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! صاحبِ ثروت، مال دار لوگ دائمی نعمتوں اور بلند درجات کے ساتھ سبقت لے گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”وہ کس طرح؟“ انہوں نے کہا: وہ ہماری طرح نمازیں پڑھتے ہیں، ہماری طرح روزے رکھتے ہیں اور وہ صدقات دیتے ہیں ہم نہیں دے سکتے، وہ غلام آزاد کرواتے ہیں؛ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں کہ اگر تم اس کو کرو تو آگے بڑھنے والوں کو پکڑ لو گے اور اپنے سے پیچھے والوں سے بھی سبقت لے جاؤ گے؟ تم سے افضل کوئی نہ ہوگا مگر وہ شخص جو تمہارے والا عمل کرے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! ضرور بتلائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر نماز کے بعد «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“، «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے“ اور «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ تینتیس، تینتیس بار کہا کرو۔“
(ب) سمی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اپنے بعض احباب کو یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا: تمہیں وہم ہو گیا ہے؛ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ 33 بار، «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے“ 33 بار اور «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ 34 بار کہا کرو۔ میں ابوصالح رحمہ اللہ کے پاس گیا اور ان کے سامنے یہ بات بیان کی تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ»، «الْحَمْدُ لِلّٰهِ»، «اللّٰهُ أَكْبَرُ» 33 بار کی تعداد کو پہنچ جائیں۔
ابوصالح رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ پھر فقراء مہاجرین (کچھ عرصہ بعد) رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: ہمارے دولت مند بھائیوں نے بھی یہ وظیفہ سن لیا ہے جو آپ نے ہمیں بتایا تھا اور وہ بھی اب یہ عمل کر رہے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”﴿ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاۤءُ﴾ [سورة الجمعة: 4] یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عطا کرتا ہے۔“
(ج) ابوسہیل رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کی ہے۔ اس میں فقراء مہاجرین کے دوبارہ آنے کے واقعہ کے بارے میں ابوصالح رحمہ اللہ کا مدرج کلام بھی ہے اور اضافہ بھی ہے۔ ابوسہیل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ گیارہ گیارہ بار پڑھے اور یہ 33 بار ہو جائے گا۔