حدیث نمبر: 300
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو يُوسُفَ مُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ الصَّفَّارُ بِالْمِصِّيصَةِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الزُّمَّانِيُّ، ثنا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الرُّبَيَّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ابْنِ عَفْرَاءَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا قَالَ: فَحَدَّثَتْنَا أَنَّهُ قَالَ: " اسْكُبِي لِي وَضُوءًا " فَسَكَبْتُ لَهُ فِي مَيْضَاةٍ وَهِيَ الرَّكْوَةُ، فَأَخَذَ مُدًّا وَثُلُثًا، أَوْ مُدًّا وَرُبُعًا، فَقَالَ: " اسْكُبِي عَلَى يَدَيْ " فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: " ضَعِي ". قَالَتْ: فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَنْظُرُ، فَوَضَّأَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مَرَّةً، وَوَضَّأَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا، وَوَضَّأَ يَدَهُ الْيُسْرَى ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّتَيْنِ يَبْدَأُ بِمُؤَخَّرِ رَأْسِهِ، ثُمَّ بِمُقَدَّمِهِ، ثُمَّ مُؤَخَّرِ رَأْسِهِ ثُمَّ مَقَدَّمِهِ، ثُمَّ مَسَحَ بِأُذُنَيْهِ كِلْتَيْهِمَا ظَاهِرِهِمَا وَبَاطِنِهِمَا، وَوَضَّأَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا، وَوَضَّأَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى ثَلَاثًا. وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ بِشْرٍ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: ثُمَّ مُؤَخَّرِ رَأْسِهِ ثُمَّ مَقَدَّمِهِ، وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يُوسُفَ الْأَزْرَقِ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ كَانَ يَمْسَحُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، يَأْخُذُ لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مَاءً جَدِيدًا.
حافظ ثناء اللہ

(الف) سیدہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آیا کرتے تھے۔ راوی کہتا ہے: سیدہ ربیع رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”میرے لیے پانی ڈالو“، میں نے آپ کے لیے ایک چھوٹے برتن میں پانی ڈالا تو آپ نے ایک مد اور ایک تہائی یا چوتھائی حصہ پانی لیا، پھر فرمایا: ”میرے ہاتھ پر پانی ڈالو“، پھر آپ نے اپنی ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھویا اور فرمایا: ”اس (برتن) کو رکھ دے“۔ فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا اور میں دیکھ رہی تھی کہ آپ ﷺ نے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، کلی کی اور ایک مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا اور اپنے دائیں اور بائیں ہاتھ کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے سر کا دو مرتبہ مسح کیا، اپنے سر کے پچھلے حصے سے شروع کیا اور اگلے حصے تک لے آئے، پھر سر کے پچھلے حصے سے شروع کیا اور اگلے حصے تک لے آئے، پھر اپنے کانوں کے ظاہری اور اندرونی حصوں کا مسح کیا اور اپنے دائیں اور بائیں پاؤں کو تین مرتبہ دھویا۔
(ب) ایک روایت میں ہے: پھر سر کے پچھلے حصے سے شروع کیا، پھر اگلے حصے پر کیا۔
(ج) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ اپنے سر کا تین مرتبہ مسح کرتے تھے اور ہر مرتبہ نیا پانی لیتے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 300
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 126»