السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال ينوي بالسلام التحليل من الصلاة باب: اس قول کا بیان کہ نمازی سلام کے ذریعے نماز سے حلال ہونے (نکلنے) کی نیت کرے
لِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ وَلِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَيَنْوِي السَّلَامَ عَلَى الْحَاضِرِينَ وَعَلَى الْحَفَظَةِ وَيَنْوِي الْمَأْمُومُ مَعَ ذَلِكَ الرَّدَّ عَلَى الْإِمَامِ ".نبی کریم ﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے کہ: ”اس (نماز) کو حلال کرنے والی چیز سلام پھیرنا ہے۔“ اور آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے اس فرمان کی وجہ سے کہ: ”اعمال کا دارومدار صرف نیتوں پر ہے۔“
اور (سلام پھیرنے والا) حاضرین اور حفاظت کرنے والے فرشتوں پر سلامتی کی نیت کرے، اور مقتدی اس کے ساتھ ساتھ امام کو جواب دینے کی بھی نیت کرے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ مِسْعَرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ قَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا بِأَيْدِينَا السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَالُ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَرْمُونَ بِأَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمْسِ، أَمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ يُسَلِّمَ عَلَى أَخِيهِ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ " ⦗٢٥٧⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامِ.سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم جب رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھا کرتے تھے تو اپنے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے کہتے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ»۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان لوگوں کو کیا ہوا ہے جو اپنے ہاتھوں سے اس طرح اشارہ کرتے ہیں جیسے شریر گھوڑوں کی دمیں ہوں؟ کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں کہ آدمی اپنے ہاتھ کو اپنی ران پر رکھے اور اس کے بعد اپنی داہنی اور بائیں طرف والے بھائی کو سلام کرے۔“