السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: التكرار في مسح الرأس باب: سر کے مسح میں تکرار کا بیان
حدیث نمبر: 297
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَوْذَبٍ، أنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ الْهَمْدَانِيِّ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَعَا بِمَاءٍ، فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ قَدْمَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: " هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ". وَهَكَذَا رَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ زِيَادٍ اللُّؤْلُؤِيُّ، وَأَبُو مُطِيعٍ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ فِي مَسْحِ الرَّأْسِ ثَلَاثًا، فَرَوَاهُ زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، وَأَبُو عَوَانَةَ وَغَيْرُهُمَا، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ دُونَ ذِكْرِ التَّكْرَارِ فِي مَسْحِ الرَّأْسِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْجَمَاعَةُ عَنْ عَلِيٍّ إِلَّا مَا شَذَّ مِنْهَا، ⦗١٠٥⦘ وَأَحْسَنُ مَا رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ فِيهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا، پھر وضو کیا، اپنی ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھویا اور تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا اور اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، اپنے بازوؤں کو تین تین مرتبہ دھویا اور اپنے سر کا تین بار مسح کیا اور اپنے قدموں کو تین تین مرتبہ دھویا۔ پھر فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا۔“
(ب) امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے سر کے مسح کا تین دفعہ کرنا منقول ہے۔
(ج) خالد بن علقمہ والی روایت میں سر کے مسح کا تکرار نہیں ہے، اسی طرح ایک جماعت نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے شاذ روایت نقل کی ہے۔