السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: تحليل الصلاة بالتسليم باب: سلام کے ذریعے نماز سے حلال ہونے (نکلنے) کا بیان
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى إِلَى قَوْلِهِ الصَّالِحِينَ، ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ. قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَإِذَا قُلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ مِنَ الصَّلَاةِ فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ قَالَ عَلِيٌّ رَحِمَهُ اللهُ: شَبَابَةُ ثِقَةٌ وَقَدْ فَصَلَ آخِرَ الْحَدِيثِ وَجَعَلَهُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ مَنْ أَدْرَجَ آخِرَهُ فِي كَلَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ تَابَعَهُ غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ وَغَيْرُهُ فَرَوَاهُ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ كَذَلِكَ آخِرُ الْحَدِيثِ مِنْ كَلَامِ ابْنِ مَسْعُودٍ لَمْ يَرْفَعْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ قَالَ: وَهِمَ زُهَيْرٌ فِي رِوَايَتِهِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ وَأَدْرَجَ فِي كَلَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَيْسَ مِنْ كَلَامِهِ وَهُوَ قَوْلُهُ: " إِذَا فَعَلْتَ هَذَا فَقَدْ قَضَيْتَ صَلَاتَكَ " وَهَذَا إِنَّمَا هُوَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، كَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ.حسن بن حر نے بھی یحییٰ بن یحییٰ کی حدیث کے ہم معنی روایت نقل کی ہے، یہ آپ کے قول «الصَّالِحِينَ» تک اسی طرح ہے، پھر فرمایا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔“
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب تو یہ پڑھ لے تو جو نماز تجھ پر فرض تھی وہ تو مکمل کر چکا۔ (اب تیری مرضی) اگر تو کھڑا ہونا چاہے تو کھڑا ہو جا اور اگر تو بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جا۔“
علی رحمہ اللہ نے فرمایا: شبابہ ثقہ ہیں، انہوں نے حدیث کے آخری حصے کو الگ کر کے اسے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول قرار دیا ہے، اور یہ ان لوگوں کی روایت سے زیادہ صحیح ہے جنہوں نے اس کے آخری حصے کو نبی ﷺ کے کلام میں داخل کر دیا ہے، واللہ اعلم۔ ابوعلی حسین بن علی حافظ نے فرمایا: زہیر کو حسن بن حر سے روایت کرنے میں وہم ہوا ہے اور انہوں نے نبی ﷺ کے کلام میں وہ بات داخل کر دی ہے جو آپ ﷺ کا کلام نہیں، یعنی یہ قول: ”جب تم یہ کر لو تو تم نے اپنی نماز مکمل کر لی“، یہ تو صرف سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔