حدیث نمبر: 2965
فِيمَا، أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَلِيُّ بْنُ حَمَّوَيْهِ بِبُخَارَا، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ قَالَ: أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي وَحَدَّثَنِي أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ أَخَذَ بِيَدِهِ وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ عَبْدِ اللهِ فَعَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ وَقَالَ: " قُلْ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحَمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ " قَالَ أَبُو خَيْثَمَةَ: وَزَادَنِي فِي هَذَا الْحَدِيثِ بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنِ الْحَسَنِ " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " قَالَ أَبُو خَيْثَمَةَ بَلَغَ حِفْظِي، عَنِ الْحَسَنِ فِي بَقِيَّةِ هَذَا الْحَدِيثِ " إِذَا فَعَلْتَ هَذَا أَوْ قَضَيْتَ هَذَا فَقَدْ قَضَيْتَ صَلَاتَكَ إِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ " هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ أَبِي خَيْثَمَةَ زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ وَأَدْرَجُوا آخِرَ الْحَدِيثِ فِي أَوَّلِهِ، وَقَدْ أَشَارَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى إِلَى ذَهَابِ بَعْضِ الْحَدِيثِ، عَنْ زُهَيْرٍ فِي حِفْظِهِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ زُهَيْرٍ وَزَعَمَ أَنَّ بَعْضَ الْحَدِيثِ انْمَحَى مِنْ كِتَابِهِ أَوْ خَرَقَ، وَرَوَاهُ شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ زُهَيْرٍ وَفَصَلَ آخِرَ الْحَدِيثِ مِنْ أَوَّلِهِ وَجَعَلَهُ مِنْ قَوْلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَكَأَنَّهُ أَخَذَهُ عَنْهُ قَبْلَ ذَهَابِهِ مِنْ حِفْظِهِ أَوْ مِنْ كِتَابِهِ ⦗٢٤٩⦘.
حافظ ثناء اللہ

(ا) قاسم بن مخیمرہ سے روایت ہے کہ علقمہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے حدیث بیان کی کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ پکڑا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا تھا اور آپ ﷺ نے انھیں نماز میں (پڑھا جانے والا) تشہد سکھایا اور فرمایا: ”کہو: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ» ”تمام قولی، فعلی اور مالی عبادات اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔“
(ب) ابوخیثمہ بیان کرتے ہیں کہ اس حدیث میں میرے بعض ساتھیوں نے حسن کے واسطہ سے یہ اضافہ کیا ہے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“
(ج) ابوخیثمہ کہتے ہیں کہ میری یادداشت میں حسن کے واسطہ سے اس حدیث کے بقیہ حصہ کے بارے میں یہ بات بھی پہنچی ہے: ”جب تم یہ کرلو یا اس کو مکمل کرلو تو تحقیق تمہاری نماز مکمل ہوگئی۔ اب اگر تو کھڑے ہونا چاہے تو کھڑا ہوجا اور اگر بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جا۔“
(د) اس حدیث کو احمد بن یونس نے زہیر سے روایت کیا ہے اور یہ خیال کیا ہے کہ اس حدیث کا کچھ حصہ ان کی کتاب سے مٹ گیا تھا یا بوسیدہ ہوگیا تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2965
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»