حدیث نمبر: 294
وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ دَارَةَ مَوْلَى عُثْمَانَ مَنْزِلَهُ، فَسَمِعَنِي أَتَمَضْمَضُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ. قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكَ عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى. قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَهُوَ بِالْمَقَاعِدِ، فَدَعَا بِإِنَاءٍ فَمَضْمَضَ ثَلَاثًا، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ ⦗١٠٤⦘ قَدْمَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وُضُوءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَنْظُرْ إِلَى وُضُوئِي هَذَا ". وَقَدْ ذَكَرَ غَيْرُهُ التَّثْلِيثَ فِي الْقَدْمَيْنِ أَيْضًا.
حافظ ثناء اللہ

محمد بن عبداللہ بن ابی مریم فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے غلام ابن دارہ کے پاس ان کے گھر گیا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: کیا تو کلی کرے گا؟ پھر فرمایا: اے محمد! میں نے کہا: جی! انہوں نے فرمایا: کیا میں تم کو رسول اللہ ﷺ کا وضو نہ بتلاؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں! انہوں نے فرمایا: میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو بیٹھنے کی جگہ دیکھا، انہوں نے ایک برتن منگوایا، پھر تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا اور تین مرتبہ اپنے چہرے اور بازوؤں کو دھویا اور تین مرتبہ سر کا مسح کیا، پھر اپنے قدموں کو دھویا۔ پھر فرمایا: جس شخص کو پسند ہو کہ وہ رسول اللہ ﷺ کا وضو کا طریقہ دیکھے تو وہ میرے اس وضو کو دیکھ لے۔ ان کے علاوہ (دوسرے راویوں) نے پاؤں کو بھی تین مرتبہ دھونے کا ذکر کیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 294
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ أخرجه البزار 9/4»