السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: التكرار في مسح الرأس باب: سر کے مسح میں تکرار کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ يُوسُفَ، ⦗١٠٣⦘ ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُمْرَانَ، قَالَ: تَوَضَّأَ عُثْمَانُ عَلَى الْمَقَاعِدِ ثَلَاثًا. وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ. ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ رَجُلٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يُصَلِّي إِلَّا غَفَرَ اللهُ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الْأُخْرَى حَتَّى يُصَلِّيَهَا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمْرٍو. وَعَلَى هَذَا اعْتَمَدَ الشَّافِعِيُّ فِي تَكْرَارِ الْمَسْحِ. وَهَذِهِ رِوَايَةٌ مُطْلَقَةٌ، وَالرِّوَايَاتُ الثَّابِتَةُ الْمُفَسِّرَةُ عَنْ حُمْرَانَ تَدُلُّ عَلَى أَنَّ التَّكْرَارَ وَقَعَ فِيمَا عَدَا الرَّأْسِ مِنَ الْأَعْضَاءِ، وَأَنَّهُ مَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ أَحَادِيثُ عُثْمَانَ الصِّحَاحُ كُلُّهَا تَدُلُّ عَلَى مَسْحِ الرَّأْسِ أَنَّهُ مَرَّةً، فَإِنَّهُمْ ذَكَرُوا الْوُضُوءَ ثَلَاثًا، وَقَالُوا فِيهَا: وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَلَمْ يَذْكُرُوا عَدَدًا كَمَا ذَكَرُوا فِي غَيْرِهِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ غَرِيبَةٍ عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ذِكْرُ التَّكْرَارِ فِي مَسْحِ الرَّأْسِ إِلَّا أَنَّهَا مَعَ خِلَافِ الْحُفَّاظِ الثِّقَاتِ لَيْسَتْ بِحُجَّةٍ عِنْدَ أَهْلِ الْمَعْرِفَةِ، وَإِنْ كَانَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا يَحْتَجُّ بِهَا.سیدنا حمران رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بیٹھنے کی جگہ پر تین مرتبہ وضو کیا اور فرمایا: اسی طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر نماز پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کے دوسری نماز کے درمیان والے گناہوں کو معاف کردیتا ہے، یہاں تک وہ نماز ادا کرلے۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ نے مسح کے تکرار میں اس حدیث کو دلیل بنایا ہے، یہ روایت مطلق ہے اور وہ روایات جو مفسر ہیں ان کے راوی سیدنا حمران رحمہ اللہ ہیں۔ ان میں سر کے علاوہ باقی اعضاء میں تکرار کا ذکر ہے۔
(ج) امام ابو داؤد سجستانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ والی تمام روایات صحیح ہیں، ان میں سر کے مسح کا ایک مرتبہ ذکر ہے۔ یعنی احادیث میں باقی اعضاء تین مرتبہ دھونے کا ذکر ہے اور سر کے مسح کا ایک مرتبہ۔
(د) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے سندِ غریب کے ساتھ منقول روایات میں مسح کے تکرار کا ذکر ہے، لیکن یہ روایات ثقہ حفاظ کے خلاف ہیں اور محدثین کے نزدیک قابلِ حجت نہیں، اگرچہ ہمارے بعض اصحاب نے دلیل پکڑی ہے۔