السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال لا يقرأ خلف الإمام على الإطلاق باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے مطلقا قراءت نہ کی جائے
حدیث نمبر: 2912
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: " مَنْ قَرَأَ وَرَاءَ الْإِمَامِ فَلَا صَلَاةَ " وَهَذَا إِنْ صَحَّ بِهَذَا اللَّفْظِ وَفِيهِ نَظَرٌ فَمَحْمُولٌ عَلَى الْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ، وَقَدْ خَالَفَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ فَرَوَاهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدٍ لَمْ يَذْكُرْ أَبَاهُ فِي إِسْنَادِهِ قَالَ: الْبُخَارِيُّ لَا يُعْرَفُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ سَمَاعُ بَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ وَلَا يَصِحُّ مِثْلُهُ.حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے امام کے پیچھے قرأت کی، اس کی نماز نہیں ہوگی۔
(ب) یہ حدیث اگر ان الفاظ کے ساتھ صحیح ہو، اور اس میں نظر ہے، تو اس کو جہری قرأت پر محمول کیا جائے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
عبداللہ بن ولید عدنی نے اس کی مخالفت کی ہے اور اسے سفیان عن عمر بن محمد عن موسیٰ بن سعد عن زید کی سند سے روایت کیا ہے، اس کی سند میں ان کے والد کا ذکر نہیں کیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس سند کے ساتھ ان کا ایک دوسرے سے سماع معروف نہیں ہے اور اس جیسی روایت صحیح نہیں ہے۔