السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال لا يقرأ خلف الإمام على الإطلاق باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے مطلقا قراءت نہ کی جائے
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ قَالَا: ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: " يَا رَسُولَ اللهِ، أَفِي كُلِّ صَلَاةٍ قُرْآنٌ؟ قَالَ: " نَعَمْ " فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَجَبَ هَذَا، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: يَا كَثِيرُ وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ: لَا أَرَى الْإِمَامَ إِذَا أَمَّ الْقَوْمَ أَنْ قَدْ كَفَاهُمْ " قَالَ عَلِيٌّ: الصَّوَابُ: إِنَّهُ مِنْ قَوْلِ أَبِي الدَّرْدَاءِ كَمَا قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: وَهِمَ فِيهِ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابُ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَى زَيْدٌ كَمَا رَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَهُوَ إِمَامٌ حَافِظٌ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ فَجَعَلَهُ مِنْ قَوْلِ أَبِي الدَّرْدَاءِ، وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّهُ كَانَ يَرَى الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ كَانَ لَا يَرَاهَا مَعَ الْإِمَامِ.(ا) سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا ہر نماز میں قرات ضروری ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: قرات واجب ہوگئی۔ تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا، جبکہ میں ان کے پہلو میں تھا: ”اے کثیر! (یہ راوی کا نام ہے) میرا خیال یہ ہے کہ امام کی قرات مقتدیوں کے لیے کافی ہے۔“
(ب) علی کہتے ہیں کہ درست بات یہ ہے کہ یہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کا اپنا قول ہے جیسا کہ ابن وہب نے روایت کیا ہے، اس میں زید بن حباب کو وہم ہوا ہے۔ زید نے بھی اسے ابن وہب کی طرح روایت کیا ہے، اور عبدالرحمن بن مہدی نے، جو امام اور حافظ ہیں، اسے معاویہ بن صالح سے روایت کر کے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کا قول قرار دیا ہے۔ ہمیں سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے روایت بیان کی گئی ہے کہ وہ امام کے پیچھے قرات کے قائل تھے اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ امام کے پیچھے قرات کے قائل نہ تھے۔