السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال لا يقرأ خلف الإمام على الإطلاق باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے مطلقا قراءت نہ کی جائے
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، أنبأ كَهْمَسٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي الْأَزْهَرِ الضُّبَعِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ، فَذَكَرَ قِصَّةً وَفِيهَا أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ صَفْوَانَ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ: يَا أَبَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَفِي كُلِّ صَلَاةٍ تَقْرَأُ؟ قَالَ: " إِنِّي لَأَسْتَحْيِي مِنْ رَبِّ هَذِهِ الْبِنْيَةِ أَنْ أَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ لَا أَقْرَأُ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ " فَزَائِدًا أَوْ قَالَ: فَصَاعِدًا قَالَ يَعْقُوبُ: وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ نَحْوَهُ، " فَكَأَنَّهُ كَانَ يَرَى الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ فِيمَا يُسِرُّ الْإِمَامُ فِيهِ بِالْقِرَاءَةِ، وَعَلَى ذَلِكَ وَضَعَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ بِخِلَافِهِ.(ا) ابوعالیہ براء سے روایت ہے کہ عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: اے ابو عبدالرحمن! کیا آپ ہر نماز میں قراءت کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: مجھے اس گھر یعنی بیت اللہ کے رب سے شرم آتی ہے کہ میں ایسی دو رکعتیں پڑھوں جن میں سورہ فاتحہ یا اس سے زیادہ نہ پڑھوں۔ ایک روایت میں «فَزَائِدًا» کے الفاظ ہیں، دوسری میں «فَصَاعِدًا» کے الفاظ ہیں۔
(ب) گویا وہ قراءت خلف الامام کو صرف ان نمازوں میں درست خیال کرتے تھے جن میں امام آہستہ قراءت کرتا ہے، یعنی سری نمازوں میں۔ اسی پر مالک بن انس رحمہ اللہ نے (اپنے مذہب کی) بنیاد رکھی، ان سے اس کے خلاف قول بھی منقول ہے۔