السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أن أزواجه صلى الله عليه وسلم من أهل بيته في الصلاة عليهن باب: اس بات کی دلیل کہ نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات پر درود بھیجنے کے حوالے سے وہ آپ کے اہل بیت میں شامل ہیں
وَذَلِكَ لِأَنَّ اللهَ تَعَالَى خَاطَبَهُنَّ بِقَوْلِهِ تَعَالَى {يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ} [الأحزاب: 32] ثُمَّ سَاقَ الْكَلَامَ إِلَى أَنْ قَالَ: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33] وَإِنَّمَا قَالَ: عَنْكُمْ بِلَفْظِ الذُّكُورِ؛ لِأَنَّهُ أَرَادَ دُخُولَ غَيْرِهِنَّ مَعَهُنَّ فِي ذَلِكَ، ثُمَّ أَضَافَ الْبُيُوتَ إِلَيْهِنَّ، فَقَالَ: {وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَى فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللهِ وَالْحِكْمَةِ} [الأحزاب: 34].اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان (ازواج مطہرات) سے اپنے اس فرمان کے ذریعے خطاب فرمایا: ﴿يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ﴾ ”اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں میں سے کسی ایک کی طرح نہیں ہو، اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو بات کرنے میں ایسی نرمی نہ برتو۔“ [سورة الأحزاب: 32]
پھر کلام کو آگے بڑھایا یہاں تک کہ فرمایا: ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾ ”اے اہل بیت! اللہ تو بس یہی چاہتا ہے کہ تم سے ہر قسم کی گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک صاف کر دے۔“ [سورة الأحزاب: 33]
اور اللہ تعالیٰ نے لفظ «عَنْكُمْ» (تم سے) مذکر کے صیغے کے ساتھ اس لیے ارشاد فرمایا کیونکہ اس سے مقصود ان (ازواج مطہرات) کے ساتھ دیگر افراد (اہل بیت) کو بھی اس حکم میں شامل کرنا تھا، پھر گھروں کی اضافت (نسبت) ان کی طرف کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَى فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللهِ وَالْحِكْمَةِ﴾ ”اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیات اور حکمت کی باتیں تلاوت کی جاتی ہیں، انہیں یاد رکھو۔“ [سورة الأحزاب: 34]
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ غَيْرَ مَرَّةٍ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ مِنْ أَصْلِهِ وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: فِي بَيْتِي أُنْزِلَتْ {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: ٣٣] قَالَتْ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فَاطِمَةَ، وَعَلِيٍّ، وَالْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ، فَقَالَ: " هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي " وَفِي حَدِيثِ الْقَاضِي وَالسُّلَمِيِّ: " هَؤُلَاءِ أَهْلِي " قَالَتْ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، أَمَا أَنَا مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ؟ قَالَ: " بَلَى إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى " قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ سَنَدُهُ ثِقَاتٌ رُوَاتُهُ. قَالَ الشَّيْخُ: " وَقَدْ رُوِيَ فِي شَوَاهِدِهِ، ثُمَّ فِي مُعَارَضَتِهِ أَحَادِيثُ لَا يَثْبُتُ مِثْلُهَا، وَفِي كِتَابِ اللهِ الْبَيَانُ لِمَا قَصَدْنَاهُ فِي إِطْلَاقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْآلَ، وَمُرَادُهُ مِنْ ذَلِكَ أَزْوَاجُهُ أَوْ هُنَّ دَاخِلَاتٌ فِيهِ.سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ آیت میرے گھر میں نازل ہوئی، یعنی ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾ [سورة الأحزاب: 33] ”اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اے اہل بیت! تم سے نجاست کو دور کر دے اور تمہیں بالکل پاک کر دے۔“
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فاطمہ، علی، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا اور فرمایا: ”یہ میرے اہل بیت ہیں۔“
(ب) قاضی اور سلمی کی حدیث میں ہے: «هَؤُلَاءِ أَهْلِي» ”یہ میرے گھر والے ہیں۔“ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں تو میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا میں اہل بیت میں شامل نہیں ہوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں نہیں، تم بھی شامل ہو۔“
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے شواہد اور معارض بھی ہیں ان کی مثل ثابت نہیں۔ اللہ کی کتاب میں وضاحت موجود ہے جس کا ہم نے قصد کیا ہے، پھر نبی ﷺ کے آل کو مطلق ذکر کرنے اور اس سے اپنی بیویاں مراد لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی آل میں داخل ہیں۔