السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أن بني المطلب بن عبد مناف من جملة آله صلى الله عليه وسلم لكونهم مع بني هاشم شيئا واحدا في حرمان الصدقة والإعطاء من سهم ذي القربى باب: اس بات کی دلیل کہ بنو مطلب بن عبد مناف آپ ﷺ کی آل میں شامل ہیں کیونکہ صدقہ حرام ہونے اور ذوی القربیٰ کے حصے میں سے دیے جانے میں وہ بنو ہاشم کے ساتھ یکساں ہیں
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ جَاءَ هُوَ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمَانِهِ لَمَّا ⦗٢١٤⦘ قَسَمَ فَيْءَ خَيْبَرَ بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ، وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللهِ، قَسَمْتَ لِإِخْوَانِنَا بَنِي الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، وَلَمْ تُعْطِنَا شَيْئًا، وَقَرَابَتُنَا مِثْلُ قَرَابَتِهِمْ، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَالْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ " وَقَالَ جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ: لَمْ يُقْسِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَلَا لِبَنِي نَوْفَلٍ مِنْ ذَلِكَ الْخُمُسِ شَيْئًا كَمَا قَسَمَ لِبَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ بِمَعْنَاهُ وَشَوَاهِدُهُ تُذْكَرُ فِي كِتَابِ قَسْمِ الْفَيْءِ بِمَشِيئَةِ اللهِ تَعَالَى.سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم آپ ﷺ سے باتیں کر رہے تھے اور آپ ﷺ بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کے درمیان خیبر کا مال غنیمت تقسیم کر رہے تھے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ہمارے بنو عبدالمطلب بن عبدمناف کے بھائیوں کے درمیان مال غنیمت تقسیم کیا ہے، حالانکہ آپ نے ہمیں کچھ بھی نہیں دیا اور ہماری قرابتیں ان کی قرابتوں کی طرح ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا: ”بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب ایک ہی چیز ہیں۔“ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بنی عبدالشمس اور بنی نوفل میں خمس سے کچھ بھی تقسیم نہیں کرتے تھے جس طرح بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب کے درمیان تقسیم کرتے تھے۔