السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: إيجاب المسح بالرأس وإن كان متعمما باب: عمامہ پہنے ہونے کے باوجود سر کے مسح کے واجب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 286
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ رَأَى صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ امْرَأَةَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ تَنْزِعُ خِمَارَهَا ثُمَّ تَمْسَحُ عَلَى رَأْسِهَا بِالْمَاءِ، وَنَافِعٌ يَوْمَئِذٍ صَغِيرٌ ".حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی بیوی صفیہ بنت ابوعبید رحمہا اللہ کو دیکھا، انہوں نے اپنی چادر اتاری، پھر پانی سے اپنے سر کا مسح کیا، نافع رحمہ اللہ ان دنوں بچے تھے۔