حدیث نمبر: 2828
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الرَّقَاشِيِّ، أَنَّ الْأَشْعَرِيَّ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلَاةً فَلَمَّا جَلَسَ فِي صَلَاتِهِ قَالَ رَجُلٌ خَلْفَهُ: أُقِرَّتِ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ فَلَمَّا قَضَى الْأَشْعَرِيُّ صَلَاتَهُ قَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا؟ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ فَقَالَ لِي: يَا حِطَّانُ لَعَلَّكَ قُلْتَهَا، قُلْتُ: مَا قُلْتُهَا وَلَقَدْ رَهِبْتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا، قَالَ الْأَشْعَرِيُّ: أَمَا تَعْلَمُونَ مَا تَقُولُونَ فِي صَلَاتِكُمْ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَعَلَّمَنَا سُنَّتَنَا وَبَيَّنَ لَنَا صَلَاتَنَا فَقَالَ: " أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ، فَإِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَرَأَ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ، فَقُولُوا: آمِينَ يُجِبْكُمُ اللهُ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ " قَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَتِلْكَ بِتِلْكَ وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، يَسْمَعِ اللهُ لَكُمْ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَإِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا، فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ " قَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَتِلْكَ بِتِلْكَ فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ: التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ، وَالسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، وَأَبِي عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا اللَّفْظِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: فَإِنَّ اللهَ قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ إِلَّا فِي رِوَايَةِ أَبِي عَوَانَةَ، وَذَكَرَهُ أَيْضًا فِي رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَلَيْسَ فِيمَا رُوِّينَا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ

(ا) حطان بن عبداللہ رقاشی فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی، جب آپ نماز میں بیٹھے تو ایک آدمی نے کہا: ”نماز نیکی اور پاکیزگی کے ساتھ ثابت ہے۔“ جب سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کی تو فرمایا: ”یہ کلمات کس نے کہے تھے؟“ سب لوگ خاموش ہو گئے تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ اے حطان! لگتا ہے تم نے کہے ہیں، میں نے کہا کہ میں نے تو نہیں کہے اور میں ڈر گیا کہ کہیں آپ مجھے اس کی وجہ سے سزا نہ دیں، پھر سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تم نماز میں کیا پڑھتے ہو؟ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطاب فرمایا، آپ ﷺ نے ہمیں سنتیں سکھائیں اور ہمارے لیے نماز کی تعلیم فرمائی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”صفوں کو سیدھا کرو پھر تم میں سے ایک امامت کروائے، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب امام ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہے تو تم آمین کہو، اللہ تمہاری دعا قبول فرمائے گا اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو؛ کیونکہ امام رکوع بھی تم سے پہلے کرتا ہے اور اٹھتا بھی تم سے پہلے ہے، یہ اس کا بدل ہے (یعنی جتنا وقت پہلے رکوع کرتا ہے اتنا وقت وہ رکوع سے پہلے اٹھتا ہے) اور جب امام «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» کہو، اللہ تمہاری دعا قبول کرلے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبان سے یہ کہلوایا ہے «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ»۔ جب وہ تکبیر کہہ کر سجدہ کرے تو تم بھی تکبیر کہو اور سجدہ کرو، کیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ کرتا ہے اور تم سے پہلے اٹھتا ہے، یہ اس کا بدل ہے، جب وہ آخر میں ہو تو تم میں سب سے پہلے امام کہے: «التَّحِيَّاتُ»... ”تمام قولی، مالی اور بدنی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔“”
(ب) امام مسلم رحمہ اللہ کی روایت میں یہ قول نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبانی کہلوایا: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ»...

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2828
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»