السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: مبتدأ فرض التشهد باب: تشہد کے فرض ہونے کی ابتداء کا بیان
حدیث نمبر: 2825
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ نَصْرٍ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ عَنْ مَنْ تَرَكَ التَّشَهُّدَ، فَقَالَ: " يُعِيدُ " قُلْتُ فَحَدِيثُ عَلِيٍّ مَنْ قَعَدَ مِقْدَارَ التَّشَهُّدِ، فَقَالَ: " لَا يَصِحُّ ".حافظ ثناء اللہ
علی بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا جو تشہد نہیں پڑھتا تو انہوں نے فرمایا: ”وہ نماز لوٹائے۔“ میں نے کہا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حدیث کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ یعنی «مَنْ قَعَدَ مِقْدَارَ التَّشَهُّدِ» ”جو تشہد کی مقدار بیٹھا“ تو انہوں نے کہا: ”وہ حدیث صحیح نہیں ہے۔“