السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: إيجاب المسح بالرأس وإن كان متعمما باب: عمامہ پہنے ہونے کے باوجود سر کے مسح کے واجب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 282
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَحَسَرَ الْعِمَامَةَ وَمَسَحَ مُقَدَّمَ رَأْسِهِ أَوْ قَالَ: نَاصِيَتَهُ بِالْمَاءِ. هَذَا مُرْسَلٌ، وَقَدْ رُوِّينَا مَعْنَاهُ مَوْصُولًا فِي حَدِيثِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
عطاء تابعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا، پس آپ نے پگڑی کو پیچھے کیا اور سر کے اگلے حصے پر مسح کیا یا فرمایا: ”اپنی پیشانی پر پانی سے مسح کیا۔“
(ب) یہ روایت مرسل ہے۔ اس کے ہم معنی مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہم نے بیان کردی ہے۔