السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: إيجاب المسح بالرأس وإن كان متعمما باب: عمامہ پہنے ہونے کے باوجود سر کے مسح کے واجب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 281
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ح. قَالَ: وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: حَدَّثَكَ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي مَعْقِلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ قَطَرِيَّةٌ فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ مِنْ تَحْتِ الْعِمَامَةِ فَمَسَحَ مُقَدَّمَ رَأْسِهِ وَلَمْ يَنْقُضِ الْعِمَامَةَ ". أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، آپ ﷺ پر قطری پگڑی تھی، آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ پگڑی کے نیچے داخل کیا، پھر سر کے اگلے حصے کا مسح کیا لیکن پگڑی کو نہیں کھولا۔