السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الاعتماد بيديه على الأرض إذا نهض قياسا على ما روينا في النهوض في الركعة الأولى باب: اٹھتے وقت دونوں ہاتھوں سے زمین پر ٹیک لگانا، اس روایت پر قیاس کرتے ہوئے جو ہم نے پہلی رکعت سے اٹھنے کے بارے میں نقل کی ہے
حدیث نمبر: 2809
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَقَالَ فِي مَتْنِ الْحَدِيثِ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ الرَّجُلُ فِي الصَّلَاةِ أَنْ يَعْتَمِدَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى " هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْلِسَ الرَّجُلُ فِي الصَّلَاةِ وَهُوَ مُعْتَمِدٌ عَلَى يَدِهِ، وَهَذَا أَبَيْنُ الرِّوَايَاتِ وَرِوَايَةُ غَيْرِ ابْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ لَا تُخَالِفُهُ وَإِنْ كَانَ أَبْيَنَ مِنْهَا، وَرِوَايَةُ ابْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهْمٌ وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَى أَنَّ رِوَايَةَ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ هِيَ الْمُرَادُ بِالْحَدِيثِ أَنَّ هِشَامَ بْنَ يُوسُفَ رَوَاهُ عَنْ مَعْمَرٍ كَذَلِكَ.حافظ ثناء اللہ
(ا) رسول اللہ ﷺ نماز میں بیٹھتے وقت بائیں ہاتھ پر ٹیک لینے سے منع فرماتے تھے۔
(ب) ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں بیٹھنے کے دوران اپنے ہاتھ پر ٹیک لے کر بیٹھنے سے منع فرمایا۔
(ج) یہ واضح ترین روایت ہے اور ابن عبدالملک کے علاوہ کی روایت اس کی مخالفت نہیں کرتی، اگرچہ یہ ان سے زیادہ واضح ہے، ابن عبدالملک کی روایت وہم ہے اور اس بات کی دلیل کہ حدیث سے مراد امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی روایت ہی ہے، یہ ہے کہ ہشام بن یوسف نے بھی اسے معمر سے اسی طرح روایت کیا ہے۔