السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الاعتماد بيديه على الأرض إذا نهض قياسا على ما روينا في النهوض في الركعة الأولى باب: اٹھتے وقت دونوں ہاتھوں سے زمین پر ٹیک لگانا، اس روایت پر قیاس کرتے ہوئے جو ہم نے پہلی رکعت سے اٹھنے کے بارے میں نقل کی ہے
حدیث نمبر: 2806
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ شَيْبَانَ بْنِ الْبَغْدَادِيِّ بِهَرَاةَ أنبأ مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ، ثنا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ إِذَا " قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ اعْتَمَدَ عَلَى الْأَرْضِ بِيَدَيْهِ " فَقُلْتُ لِوَلَدِهِ وَلِجُلَسَائِهِ: لَعَلَّهُ يَفْعَلُ هَذَا مِنَ الْكِبَرِ؟ قَالُوا: لَا وَلَكِنْ هَذَا يَكُونُ " وَرُوِّينَا عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ " يَعْتَمِدُ عَلَى يَدَيْهِ إِذَا نَهَضَ " وَكَذَلِكَ كَانَ يَفْعَلُ الْحَسَنُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ التَّابِعِينَ.حافظ ثناء اللہ
(ا) ازرق بن قیس سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ آپ جب دو رکعتوں سے کھڑے ہوتے تو اپنے ہاتھوں کے ساتھ زمین پر سہارا لے کر اٹھتے۔ میں نے ان کے بیٹوں اور دوستوں سے کہا کہ شاید وہ بڑھاپے کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں لیکن ایسا ہوسکتا ہے۔
(ب) ہم سیدنا نافع رحمہ اللہ کی روایت ذکر کرچکے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ جب سجدے سے اٹھتے تو زمین پر سہارا لے کر اٹھتے تھے، اسی طرح حسن بصری رحمہ اللہ اور کئی تابعین رحمہ اللہ کرتے تھے۔