السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: كيفية الجلوس في التشهد الأول والثاني باب: پہلے اور دوسرے تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 2776
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا مُحَمَّدٌ يَعْنِيَانِ ابْنَ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيَّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ " يَرَى عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ يَتَرَبَّعُ فِي الصَّلَاةِ إِذَا جَلَسَ " فَفَعَلْتُهُ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ فَنَهَانِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ وَقَالَ: " إِنَّمَا سُنَّةُ الصَّلَاةِ أَنْ تَنْصِبَ رِجْلَكَ الْيُمْنَى وَتَثْنِيَ الْيُسْرَى، فَقُلْتُ: إِنَّكَ تَفْعَلُ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: إِنَّ رِجْلِيَّ لَا تَحْمِلَانِي " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، عَنْ مَالِكٍ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ نماز میں جب بیٹھتے تو چار زانو ہو کر (آلتی پالتی مار کر) بیٹھتے۔ میں بھی اسی طرح بیٹھتا، ان دنوں میں چھوٹا تھا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے منع کیا اور فرمایا کہ نماز میں بیٹھنے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ تو اپنا دایاں پاؤں کھڑا کرے اور بائیں کو بچھا کر اس پر بیٹھے۔ میں نے پوچھا: آپ تو اس طرح (چار زانو) کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میرے پاؤں میرا بوجھ نہیں اٹھا سکتے (یعنی میں بیمار ہوں)۔