السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: كيفية الجلوس في التشهد الأول والثاني باب: پہلے اور دوسرے تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ، فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ، قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ: " حَتَّى إِذَا كَانَ فِي السَّجْدَةِ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَقَعَدَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ "، فَقَالُوا جَمِيعًا: صَدَقَ، هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا فِي التَّشَهُّدِ الْأَخِيرِ نَصًّا وَلَيْسَ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ كَيْفِيَّةُ الْجُلُوسِ فِي التَّشَهُّدِ الْأَوَّلِ وَقَدْ حَفِظِهُمَا جَمِيعًا ابْنُ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَلَى مَا مَضَى، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، وَأَمَّا حَدِيثُ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ عَائِشَةَ فِي صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ " يَقُولُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ، وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ، وَحَدِيثُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ فِي صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَأَحَدُهُمَا وَارِدٌ فِي التَّشَهُّدِ الْآخِرِ وَالثَّانِي وَارِادٌ فِي التَّشَهُّدِ الْأَوَّلِ بِالِاسْتِدْلَالِ بِحَدِيثِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ وَأَصْحَابِهِ ".عمرو بن محمد بن عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں تشریف فرما تھے، جن میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، ابوحمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کی نماز کے متعلق میں تم سب سے زیادہ جانتا ہوں۔۔۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ جب آخری رکعت میں ہوتے تو بائیں پاؤں کو (سرین کے نیچے سے دائیں طرف) نکال کر بائیں کولہے پر بیٹھ جاتے تو سب نے کہا کہ آپ نے سچ کہا، رسول اللہ ﷺ واقعی اسی طرح نماز پڑھتے تھے۔
(ب) یہ حدیث آخری تشہد کے بارے میں واضح ہے۔ اس میں پہلے تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت کا بیان نہیں ہے۔ ان دونوں کو ابن حلحلہ رحمہ اللہ نے محمد بن عمرو رحمہ اللہ سے اکٹھے حفظ کیا ہے۔
(ج) ابوجوزا رحمہ اللہ کی حدیث میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی ﷺ کی نماز کے بارے میں منقول ہے کہ آپ ﷺ دو رکعتوں کے بعد تشہد پڑھتے تھے اور اپنے بائیں پاؤں کو بچھاتے اور دائیں کو کھڑا رکھتے اور آپ ﷺ ”شیطان کی طرح بیٹھنے“ سے منع فرماتے تھے۔
(د) وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی حدیث جو نبی ﷺ کی نماز کے بارے میں ہے کہ پھر آپ ﷺ بیٹھے اور اپنی بائیں ٹانگ کو بچھا لیا۔
(ہ) ان میں سے ایک دوسرے تشہد کے بارے میں وارد ہے اور دوسری پہلے تشہد کے بارے میں منقول ہے۔ ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے (یہی سمجھ آتا ہے)۔