السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما يستحب من أن يكون مكث المصلي في هذه الأركان قريبا من السواء باب: اس بات کے مستحب ہونے کا بیان کہ نمازی کا ان ارکان میں ٹھہرنا تقریباً برابر ہو
حدیث نمبر: 2753
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ، أَنَّ مَطَرَ بْنَ نَاجِيَةَ، لَمَّا ظَهَرَ عَلَى الْكُوفَةِ أَمَرَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ ⦗١٧٧⦘ عَبْدِ اللهِ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ أَطَالَ الْقِيَامَ، فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ أَبِي لَيْلَى فَحَدَّثَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا صَلَّى فَرَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَإِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ " أَخْرَجَاهُ جَمِيعًا فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ.حافظ ثناء اللہ
حکم فرماتے ہیں کہ مطر بن ناجیہ نے جب کوفہ پر تسلط حاصل کر لیا تو ابوعبیدہ بن عبداللہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، انہوں نے نماز پڑھائی۔ جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو قومہ لمبا کرتے، میں نے اس بارے میں ابن ابی لیلیٰ سے پوچھا تو انہوں نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی روایت نقل فرمائی کہ ”رسول اللہ ﷺ جب نماز پڑھتے تو آپ کی نماز تقریباً برابر ہوتی تھی۔ جب آپ رکوع کرتے، رکوع سے سر اٹھاتے یا سجدہ کرتے یا دو سجدوں کے درمیان ٹھہرتے تو آپ کے ٹھہرنے کی مقدار برابر ہوتی۔“